in

افغان جنگ! اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو10سال مکمل

افغان جنگ! اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو10سال مکمل

دو مئی 2011کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوج کی ایک کارروائی میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو 10سال مکمل ہوگئے۔

واقعے نے جہاں عالمی سطح پر کئی اثرات مرتب کیے وہیں القاعدہ کو سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے دھچکہ لگا۔

القاعدہ کی سرگرمیوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دنیا کی سب سے خطرناک تنظیم سمجھی جانے والی القاعدہ مرکزی سطح پر بظاہر ٹوٹ پھوٹ اور قیادت کے بحران کا شکار رہی مگر اس کے باوجود دنیا کے مختلف خطوں میں اس سے جڑی ہوئی شاخیں ابھی تک مؤثر ہیں۔

اسامہ بن لادن کون تھے؟

سعودی عرب میں مارچ 1957کو پیدا ہونے والے اسامہ بن لادن کے والد ایک معروف تعمیراتی کمپنی کے مالک تھے۔ ان کا شمار سعودی عرب کے امیر ترین کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔

کنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں سول انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران اسامہ کی ملاقات وہاں شدت پسند نظریات کےحامل طلبہ اور اساتذہ سے ہوئی جس کے بعد ان کے نظریات میں بھی تبدیلی آنا شروع ہوئی۔

جب سابق سوویت یونین (موجودہ روس) نے 1979میں افغانستان پر حملہ کیا تو اسامہ بن لادن کی زندگی میں بھی ایک نیا موڑ آیا۔ وہ 80کی دہائی میں افغانستان آئے اور معروف فلسطینی شدت پسند رہنما عبداللہ یوسف عزام کی تنظیم ‘مکتب الخدمت’ (جسے افغان سروس بیورو بھی کہا جاتا ہے) سے وابستہ ہوگئے۔

ملاعمر:پسماندہ علاقےکےغریب لڑکےکا طاقتورترین رہنما بننے تک کا سفر



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

میانوالی: تین معصوم بیٹیوں کا قاتل باپ گرفتار

میانوالی: تین معصوم بیٹیوں کا قاتل باپ گرفتار

پاکستان میں قرآن مجید کی اشاعت

پاکستان میں قرآن مجید کی اشاعت