in

کنولی کے باہر اردو مشاعرہ، نوجوان شاعر جھومتے رہے

کنولی کے باہر اردو مشاعرہ، نوجوان شاعر جھومتے رہے

ریسٹورنٹ مالکن کی جانب سے منیجر کی انگریزی کا مذاق اڑانے کا معاملہ بادی النظر میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ ہفتے کو رات گئے تک اسلام آباد میں کنولی کے باہر اردو مشاعرہ جاری رہا جس میں نوجوان شاعروں نے اپنا کلام سنایا اور سامعین نے خوب داد دی۔

گزشتہ رات سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں رستوران کی مالکن اپنے منیجر کی انگریزی کا مزاق اڑا رہی ہیں۔ ویڈیو وائرل ہونے پر سوشل میڈیا صارفین نے مالکن پر تنقید کے ساتھ ساتھ ہوٹل کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلائی جس کے باعث ہفتے کو ریستوران میں سناٹا رہا۔

معاملہ صرف یہاں پر نہیں رکا بلکہ اردو سے محبت کرنے والوں نے دو قدم آگے بڑھ کر کنولی کے باہر اردو مشاعرہ منعقد کرنے کا اعلان کیا اور سوشل میڈیا پر اس کی خوب تشہیر کی۔ مشاعرے کیلئے فیس بک پر بنائے گئے ایونٹ میں 2 ہزار کے قریب لوگوں نے دلچسپی ظاہر کی تھی۔

ہفتے کی شام سے کنولی کے باہر نوجوان شعرا اور اور دیگر لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے جن میں زیادہ تعداد طلبہ کی تھی۔ شرکا میں مرد و خواتین نے یکساں شرکت کی۔

شرکا نے مشاعرے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں جن میں شعرا اپنا کلام سنا رہے ہیں اور سامعین دل کھول کر داد دے رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر مشاعرہ کھڑے کھڑے شروع ہوگیا مگر جیسے جیسے شام ڈھلتی گئی، شرکا کی تعداد بڑھتی گئی اور رات گئے تک شرکا فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے۔

بعض شعرا نے اپنا کلام ترنم کے ساتھ سنایا جس پر شرکا جھومتے رہے۔

مشاعرے کے دوران چند منچلوں نے ہوٹل کے مشہور ہونے والے منیجر اویس کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ ٹوئٹر پر شیئر ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک نوجوان پوری قوت کے ساتھ نعرہ لگاتا ہے اور اس کے ساتھی پوری شدت کے ساتھ ’اویس‘ کہہ کر اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لاہور: کنسائنو ویکسین کاٹرائل کسی ری ایکشن کے بغیر مکمل

لاہور: کنسائنو ویکسین کاٹرائل کسی ری ایکشن کے بغیر مکمل

فیصل آباد میں پٹرولنگ پولیس کی فائرنگ سے شہری کی ہلاکتتحقیقات کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل 

فیصل آباد میں پٹرولنگ پولیس کی فائرنگ سے شہری کی ہلاکتتحقیقات کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل