in

آزاد کشمیرمیں کرونا کی تشویشناک صورتحال اورعوام کی لاپرواہی

آزاد کشمیرمیں کرونا کی تشویشناک صورتحال اورعوام کی لاپرواہی

آزاد کشمیر میں بھی کرونا وائرس کی تیسری لہر میں روز بہ روز تیزی آرہی ہے۔ اس کے باوجود ہم بطور زندہ قوم اور معزز شہری ہونے کا ثبوت نہیں دے رہے۔ انتہائی قیمتی افراد کو الوداع کہنے کے باوجود  نہ ہمارے دلوں میں خوف رہا نہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو تیار ہیں۔

کچھ لوگوں کو اب بھی گمان ہے کہ کرونا وائرس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ ایک افواہ ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والے لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کرتے بلکہ ویکسینیشین کے خلاف بھی نت نئی تاویلیں دیتے رہتے ہیں۔ اکثریت ایس او پی کا خیال ہی نہیں رکھتی، دعوتیں اور تقاریب بدستور جاری ہیں۔ تاجر اور عوام معمول کے مطابق عید کی خریداری چاہتے ہیں۔ رشتہ داروں اور دوستوں سے بغلگیر ہونا اور ملاقاتوں کا سلسلہ حسب معمول جاری ہے۔ بلا ضرورت بازار جانے سے ہم نہیں رکتے لہٰذا پہلی اور دوسری لہر کے دوران جو حال امریکا اور یورپ کا ہوا وہ اب ہمارا ہو رہا ہے۔

لگتا ہے کہ یورپ نے کرونا کو شکست دے دی لیکن برصغیر شکست اور ریخت سے گزر رہا ہے۔ پاکستان کی ابھی بھارت جیسی صورت حال تو نہیں ہوئی لیکن عوامی رویے سے لگتا ہے کہ اسی صورت حال کو خوش آمدید کہنے کے لیے لوگ بے تاب ہیں۔

بھارت کے حالات تو اب مودی سرکار کے قابو سے بھی باہر ہو گئے۔ جس کے محفوظ ذخائر 170 ارب ڈالر سے زائد ہیں ۔ سوائے گائے کے پیشاب اور گوبر کے بھاجپا کے پاس مریضوں کو طبی امداد مہیا کرنے یا لائشوں کو ٹھکانے لگانا  کا کوئی دوسرا بندوبست  نہیں رہا۔ کرونا وائرس نے بھارتی معاشرے کو پلٹ کر رکھ دیا ہے اور ایک تباہی مچا رکھی ہے اور پورا بھارت اس کی گرفت میں ہے۔

مرد و خواتین سڑکوں اور فٹ ہاتھوں پر گرتے مرتے نظر آتے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق لکھنو میں شمشان گھاٹ کم پڑھ گئے ہیں۔ مردوں کی آخری رسومات کے لیے 12 گھنٹے سے زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ پارکوں میں عارضی شمشان گھاٹ تعمیر کر کے اجتماعی مردوں کو جلانا شروع کردیا گیا ہے۔ ایک کارکن کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ 200 چتاؤں کو آگ لگاتا ہے جن میں ایک سے زیادہ مردے ہوتے ہیں۔ آکسیجن کی قلت  ہے اور 5 ہزار روپے کا سلنڈر 50 ہزار روپوں میں فروخت ہو رہا ہے۔ ایمبولینس سروس اور اسٹریچرز کی کمی کے باعث مردوں اور مریضوں کو اسپتال کے باہر فٹ ہاتھوں پر گھسٹتے دیکھا گیا۔

پاکستان کے پاس ابھی بھی سنبھلنے کا موقع ہے لیکن صورت حال قابو سے باہر ہو رہی ہے ۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے رتبہ کا لحاظ رکھتے ہوئے معزز انداز میں تنبیہ کی کہ پاکستانیوں نے حالات کی سنگینی کو نہ سمجھا تو صورت حال بھارت جیسی ہو سکتی ہے۔ جس طرف اسد عمر کا اشارہ تھا وہ آپ نے ملاحظہ کیا، ہم ایسی صورت حال اپنے لیے کیوں ہیدا کرنے چاتے ہیں۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس نہ وسائل ہیں نہ اکسیجن۔ اللہ نہ کرے بھارت جیسے حالات ہوئے تو قرض کے 22 ارب ڈالر محفوظ ذخائر والا ملک 23 کروڑ عوام کو نہ ادویات دے سکے گا اور نہ ہی آکسیجن اور خوراک۔ ہمیں سیاست سے بالا تر ہوکر اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، اپنے لیے اور اپنے خاندان اور بہتر مستقبل کے لیے۔ اس میں مشکل کیا ہے؟  ہم کچھ عرصے کے لیے دوستوں رشتہ داروں اور احباب سے نہ ملیں اور بلا ضرورت گھر سے نہ نکلیں۔ دیہات کے رسم و رواج کو کچھ عرصہ کے لیے پس پشت ڈال کر علاقے میں کرونا وائرس کو شکست دینے کا عہد کریں۔ہم بار بار ہاتھ دھویں سینیٹائز کریں اور ماسک پہنیں۔ اس میں ہمارا کیا جاتا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے کرونا وائرس بھاگتا ہوا ہم سے دور چلا جائے گا۔

آزاد کشمیر کے دیہاتی تو کرونا وائرس تلاش کر رہے ہیں کہ ملاقات ہو تو گھر دعوت پر بلائیں۔ کوئی سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھتا۔ گاؤں میں رسم و رواج برابر چل رہے ہیں۔ افطار پارٹیاں ہو رہی ہیں۔ گاؤں کا پرانا کلچر بلاوجہ اور بغیر کسی کام ایک دوسرے کے گھر جا کر گپیں مارنے سے باز نہیں آ رہے۔ ویکسین سینٹر جانے کے بجائے عورتیں اور مرد بازاروں میں خریداری کے لیے مرے جا رہے ہیں۔ نوجوانوں اور بوڑھوں سے گاؤں کے بازار بھرے پڑے ہیں۔ راولاکوٹ میں کرونا وائرس نے قیامت برپا کردی ہے بلکہ پورا پونچھ ڈویژن متاثر ہے۔ چوبیس گھنٹوں میں ساس بہو سمیت ایک ہی گھر کے 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔ عورتوں اور اساتذہ کے انتقال سے گھر اور دانش گاہیں، ڈاکٹروں کے انتقال سے اسپتال خالی ہو رہے ہیں۔ گھر،  دانش گاہیں اور اسپتال ویران ہونے لگے تو پھر کیا عالم ہو گا ہمارے معاشرے کا، ہمارے مستقبل کا۔ انتہائی تشویش ناک خبر ہے کہ راولاکوٹ شہر کے گرد نواح میں سینکڑوں لوگوں میں کرونا مثبت آیا ہے۔ طلباء، محکمہ جاتی ملازمین، افسران سمیت کثیر تعداد، افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جو آگ کی طرح پھیل رہا ہے۔ مبینہ طور پر صرف ایک  یونین کونسل پاچھیوٹ کے علاقوں بھاگیانہ ،چیروٹی اور داتوٹ میں 14 سے زائد کیسز روپورٹ ہوئے۔ گاؤں دیہات میں یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ تقریباً 3 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ خوش قسمتی کہیں یا حسن اتفاق کہ اس وقت راولاکوٹ کی انتظامیہ کے افسران فرض شناس بھی ہیں اور متحرک بھی۔ خاص طور پر ڈویژنل سربراہ کمشنر پونچھ مسعود الرحمان انسان دوست،  فہم و فراست کے حامل انتہائی سمجھ دار اور تجربہ کار افسر ہیں۔ معملات کو سمجھ کر حل کرنے میں ان کو ملکہ حاصل ہے۔ امید قوی ہے کہ عوام نے تعاون کیا تو اس بحرانی کیفیت سے معاشرے کو نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بشرط یہ کہ لوگ تعاون کریں اور بات کو سمجھیں ۔ پونچھ کی حدود میں  ایس او پی کی خلاف ورزی پر اپریل کے پہلے دو ہفتوں کے دوران 17 لاکھ سے زائد کا جرمانہ کیا گیا۔ یہ اچھی مثال نہیں بلکہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ تعلیمی  معیار اور تعداد میں پاکستان کے تمام اضلاع میں اول نمبر کے ضلع کے عوام کی قانون کی پاسداری کا یہ حال ہے تو پھر دیگر اضلاع کا کیا عالم ہو گا۔

کمشنر پونچھ ڈویژن  مسعود الرحمان، کا کہنا ہےکہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اموات کی شرح میں جو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے وہ انتہائی خطرناک اور بھیانک ہے اگر ایسی صورت حال برقرار رہی تو بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، اب تو اسپتالوں میں جگہ کم پڑ رہی ہے تاہم حکومت اور انتظامیہ ان تمام ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اقداما ت کر رہی ہے۔ جب تک عوام تعاون نہیں کریں گے اس وبا کے خلاف جنگ میں ہم اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔

انہوں نے اس قلم کار کو بتایا کہ 28 اپریل تک پونچھ ڈویژن میں 48 ہزار 775 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 4 ہزار 96 مثبت آئے۔ تین ہزار 145 افراد صحت یاب ہوئے جب کہ 799 مریض قرنطینہ یا آئسولیشن  میں ہیں اور 152 کا انتقال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژن میں  ویکسینیشین کے 15 سینٹر قائم کیے گئے ہیں جو راولاکوٹ سی ایم ایچ کے علاوہ، ہجیرہ،  عباس پور، پانیولہ، تھوراڑ، بیسک ہیلتھ یونٹ ہیڈ کوارٹر، باغ، دھرکوٹ، سہ سیری، ملوٹ، کہوٹہ، پلندری تراڑکھل، منگ اور بلوچ میں ہیں جہاں وافر مقدار میں ویکسین اور ہر قسم کی سہولت موجود ہے۔ اٹھائیس اپریل تک لگ بھگ 9 ہزار 555 افراد ویکسین کی پہلی ڈوز جبکہ ایک ہزار 840 افراد دونوں ڈوزز لگوا چکے۔ سی ایم ایچ راولاکوٹ میں روزانہ لگ بھگ 100 افراد ویکسین لگوا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ 50 سال عمر سے زائد افراد ویکسین لگوانے میں کوتاہی نہ کریں اور جلد از جلد اپنے قریبی سینٹر سے رابطہ کریں۔ حکومت کی طرف سے قائم کردہ ویکسین سینٹر کی تعداد تو تسلی بخش ہے لیکن ویکسین لگوانے والوں کی تعداد تسلی بخش نہیں۔

ویکسینیشن کا عمل وسط مارچ سے جاری ہے لیکن چار اضلاع میں ابھی تک صرف ایک ہزار 840 افراد کا کورس مکمل ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ویکسینیشین میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ بہ الفاظ دیگر غالباً لوگ نہیں چاہتے کہ کرونا ختم ہو۔ یہ عمل اس لیے سست ہے کہ لوگوں کو ان افواہوں پر یقین ہے جو ویکسینیشین کے بارے میں پھیلائی جا رہی ہیں۔ کرونا وائرس سے مکمل جان چھڑانے کے لیے کم سے کم 60 فیصد آبادی کو ویکسین لگایا جانا ضروری ہے ورنہ زندگی لاک ڈاؤن میں پھنسی رہے گی۔ امریکا اور اسرائیل اپنی 40 فیصد آبادی کو ویکسین لگا چکے ہیں جبکہ پورے یورپ میں ویکسین پر بھر پور توجہ ہے اس لیے وہاں وبا قابو میں ہے۔ عوام جو بھی چاہیے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور پہلی فرصت میں ویکسین لگوائیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

News-in-Brief-Urdu

کوہستان: 3 طلبہ نالے میں ڈوب کر جاں بحق

فلسطینی صدر نے انتخابات ملتوی کرنیکا اعلان کردیا

فلسطینی صدر نے انتخابات ملتوی کرنیکا اعلان کردیا