in

بھارت:نئی دہلی میں ہر تیسرا شخص کرونا میں مبتلا ہوگیا

بھارت:نئی دہلی میں ہر تیسرا شخص کرونا میں مبتلا ہوگیا

بھارتی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کرونا وائرس کی ابتدا کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئے ہیں اور 1625 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ بھارت میں ایک دن میں سب سے زیادہ مریضوں میں کرونا وائرس کی تشخیص بھی ہوئی، جو اب بڑھ کر 2 لاکھ 75 سے بھی زیادہ رہی ہے۔

دوسری جانب نئی دلی میں ایک دن میں سب سے زیادہ 25 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دلی میں ٹیسٹ ہونے والا ہر تیسرا شخص کرونا وائرس میں مبتلا ہے۔ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ دہلی میں صورت حال بہت خراب ہے۔ اتوار کے روز دارالحکومت نئی دہلی میں 161 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی۔

بڑھتے کیسز پر قابو پانے کیلئے بھارتی حکومت نے 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو کرونا ویکسین لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم مئی سے لاگو ہوگا۔ یہ فیصلہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ یکم مئی سے کرونا ویکسینیشن مہم اپنے تیسرے مرحلے میں داخل ہوگی، جس میں ویکسینیشن کے عمل کو تیز کیا جائے گا اور اس کے دائرہ کار میں توسیع کی جارہی ہے۔ ابھی تک صرف 45 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ہی یہ ویکسین لینے کی اجازت تھی تاہم بہت سی ریاستوں میں ویکسین کی قلت ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ اضافی خوراکیں کہاں سے آئیں گی۔

گزشتہ ہفتے حکومت نے کہا تھا کہ اس کے پاس صرف 27 ملین خوراکیں بچی ہیں – یا ویکسین لگانے کی موجودہ شرح کے حساب سے اس کے پاس صرف نو دن کی ویکسین موجود ہے۔ بھارت میں اس وقت طبی کارکنوں، فرنٹ لائن ورکرز اور 45 سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین دی جا رہی ہے لیکن متعدد ریاستوں سے ناکافی خوراکوں کی اطلاع ہے جن میں سب سے متاثرہ مہاراشٹر بھی شامل ہے۔ بہت سے علاقوں میں لوگوں کو ویکسنیشن مراکز سے ہٹانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بھارتی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں کیسز میں اضافے کی وجہ بڑی تعداد میں لوگوں کی

دہلی میں گورکنوں کے سربراہ شمیم نے بتایا کہ کرونا کی وجہ سے اموات اس قدر ہوگئیں کہ اب گورکن کے کام میں چار گنا اضافہ ہوا ہے، اس سے قبل جنوری اور دسمبر میں بھی اموات ہوئیں مگر اُن کی تعداد اس قدر نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرنے والوں کی تعداد اتنی ہی رہی تو آئندہ تین سے چار روز میں قبرستانوں میں جگہ کم پڑ جائے گی۔ دہلی کے باہرغازی آباد میں ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا ہے کہ کفن میں لپٹی لاشیں فٹ پاتھ پر پڑی ہیں، غم سے نڈھال رشتے دار آخری رسومات کے لیے ان کی باری کا انتطار کر رہے ہیں۔ مغربی ریاست گجرات کے سورت، راجکوٹ، جام نگر اور احمد آباد کے شمشان گھاٹوں میں کئی گنا زیادہ لاشیں آرہی ہیں اور تقریباً 24 گھنٹے آخری رسومات کا سلسلہ چل رہا ہوتا ہے۔

لکھنو کے دو شمشان گھاٹوں میں رشتہ داروں کو آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے ٹوکن دیا جاتا ہے جس کے لیے ان کو 12 گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ لکڑیوں کی قلت کی وجہ سے لواحقین کو اپنی لکڑیاں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

24 کروڑ کی آبادی والی ریاست اترپردیش انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے۔ ہر چھٹا انڈین اس ریاست کا شہری ہے۔ اگر یہ الگ ملک ہوتا تو یہ چین، انڈیا، امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد دنیا کا پانچواں بڑا اور پاکستان اور برازیل سے بھی بڑا ملک ہوتا۔

اترپردیش سیاسی لحاظ سے بھی ملک کی سب سے اہم ریاست ہے، جو ریاستی پارلیمان میں سب سے زیادہ یعنی 80 ارکان کو پارلیمنٹ کو بھیجتی ہے۔ اس میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں اگرچہ وہ کسی اور ریاست سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہرحال اس سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود ریاست کو زیادہ ترقی حاصل نہیں ہوئی۔

اس ریاست میں فی الحال کرونا کے ایک لاکھ 91 ہزار سے زیادہ فعال کیسز ہیں۔ ہر روز ہزاروں کی تعداد میں انفیکشن کی اطلاع مل رہی ہے۔ اس کے باوجود یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور ان وجوہات کے سبب ریاست کے صحت کے ناقص انفراسٹرکچر کو سرخیوں میں جگہ مل رہی ہے۔

کرونا کے مریضوں میں ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سمیت ان کی کابینہ کے کئی ارکان، درجنوں سرکاری عہدیدار اور سینکڑوں ڈاکٹرز، نرسیں اور شعبۂ صحت کے دیگر کارکن شامل ہیں۔ گذشتہ کچھ دنوں کے دوران میں نے ریاست کے درجنوں لوگوں سے بات کی اور انھوں نے چونکا دینے والی کہانیاں سنائی ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

چُپکے چُپکے میں داماد کے تضحیک آمیز کردارپرعلی سفینہ کاجواب

چُپکے چُپکے میں داماد کے تضحیک آمیز کردارپرعلی سفینہ کاجواب

پنجاب میں کرونا ویکسینیشن سینٹرز کے اوقات تبدیل

پنجاب میں کرونا ویکسینیشن سینٹرز کے اوقات تبدیل