in

جوہری معاہدے: ایران کا بات چیت سے انکار

جوہری معاہدے: ایران کا بات چیت سے انکار

تہران نے موقف اپنایا ہے کہ وہ مشترکہ جامع منصوبہ لائحہ عمل (جے سی پی ا و اے) یا ایران جوہری معاہدے پر غور وخوض کے لیے کسی میٹنگ میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگا جب تک کہ اس پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی جاتی ہیں۔

ایرانی وزات خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے کا کہنا ہے کہ ’پہلے امریکا اس جوہری معاہدے میں واپس آئے اور ایران پرعائد غیر قانونی پابندیاں ختم کرے جس کے کیلیے کسی بات چیت کی ضرورت نہیں ہے اور جیسے ہی پابندیاں ختم کی جائیں گی ہم اپنے وعدوں پر لوٹ آئیں گے‘۔

دوسری جانب ایران کے بیانات کے جواب میں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ امریکا کو مایوسی ہوئی ہے لیکن وہ اب بھی سفارت کاری شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ’گوکہ ہمیں ایران کے جواب سے مایوسی ہوئی ہے لیکن ہم جے سی پی او اے کے تحت کیے گئے وعدے پر باہمی طور پر عمل کرنے کے لیے ایک بامعنی سفارت کاری دوبارہ شروع کرنے کے لیے اب بھی تیار ہیں‘۔

واضح رہے کہ سال 2018 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو اس معاہدے سے یک طرفہ طور پر الگ کرلیا تھا جبکہ جوبائیڈن نے معاہدے کو بحال کرنے کیلیے معاہدے میں شامل ایران سمیت چھ ملکوں کے گروپ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

فلسطین: آنسوگیس شیلز میں ننھے پھولوں کا خوبصورت باغ

فلسطین: آنسوگیس شیلز میں ننھے پھولوں کا خوبصورت باغ

حکومت جتنی مٹھائياں بانٹے،سپريم کورٹ نےحکومتی آرڈیننس مستردکرديا،کھوسہ

حکومت جتنی مٹھائياں بانٹے،سپريم کورٹ نےحکومتی آرڈیننس مستردکرديا،کھوسہ