in

چشمہ لگانے والے کرونا سے زیادہ محفوظ رہتے ہیں، تحقیق

چشمہ لگانے والے کرونا سے زیادہ محفوظ رہتے ہیں، تحقیق

تحقیقی رپورٹ کے بھارت میں سائنسدانوں نے بتایا کہ نظر کی عینک استعمال کرنے والے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اپنی آنکھوں کو کم مسلتے اور ہاتھ لگاتے ہیں جس باعث وہ کرونا وائرس کا کم شکار ہوئے۔

اس سے قبل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا سبب چیزوں سمیت چہرے اور آنکھوں کو بار بار چھونا ہے۔

کرونا وائرس آنکھوں میں آنسو کے ذریعے جبکہ ناک کی کیوٹی میں جراثیم داخل ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔

گزشتہ سال موسم گرما کے دوران بھارت کے شمالی استپال میں کووڈ-19 پر تحقیقی کرنے والے ریسرچرز نے 81 خواتین اور 223 مردوں کی عادات واطوار کا مشاہدہ کیا۔ دس سے اسی برس کی عمر کے ان تمام افراد میں کووڈ-19 کی علامات تھیں۔ زیر مشاہدہ افراد میں سے 19 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل چشمہ استعمال کررہے تھے۔

تحقیق میں ثابت ہوا کہ زیر مشاہدہ افراد نے ایک گھنٹے میں غیر ارادی طور پر ایک گھنٹے میں 23 مرتبہ اپنا منہ کو چھوا اور اسی مدت میں تین بار آنکھوں کو چھوا۔ تاہم جو لوگ چشمہ استعمال کر رہے تھے ان میں یہ صورت دو سے تین گنا کم نوٹ کی گئی۔

تحقیق کے نتائج کی ابھی تصدیق ہونا باقی ہے جس میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ چشمہ استعمال کرنے والوں میں دوسرے افراد کی نسبت کووڈ-19 میں مبتلا ہونے کے دو سے تین فیصد چانسز کم ہوتے ہیں۔

ایک اور رپورٹ میں بھی اس بات کا انکشاف کیا گیا تھا کہ جو افراد چشمے کا استعمال کرتے ہیں ان میں کرونا وائرس کم پھیلتا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

معذور رکشہ ڈرائیورکی خصوصی افراد کے لیے فری رکشہ سروس

معذور رکشہ ڈرائیورکی خصوصی افراد کے لیے فری رکشہ سروس

لاہور قلندرز جیت کا تسلسل جاری رکھنے کیلیے پرعزم

لاہور قلندرز جیت کا تسلسل جاری رکھنے کیلیے پرعزم