in

سابق امریکی صدر ٹرمپ سزا سے بچ گئے

سابق امریکی صدر ٹرمپ سزا سے بچ گئے

امریکی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مواخذے کا سامنا کرنے سے بچ گئے۔ امریکی سینیٹ نے سابق صدر کو الزامات سے بری کردیا۔

ٹرمپ کو الزامات اور مجرم قرار دینے کیلئے امریکی سینیٹ میں ووٹنگ کا عمل درکار تھا، تاہم جب ووٹنگ شروع ہوئی تو 57 اراکین نے ٹرمپ کو مجرم قرار دینے کے حق میں اور 43 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ 7 ری پبلکن اراکین نے سزا کے حق میں ووٹ دیئے۔

ہفتہ 13 فروری کی صبح امریکی سینیٹ میں سابق صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے میں گواہان کو طلب کرنے کے معاملے پر رائے شماری ہوئی۔ پھر اس دوران یہ طے پایا کہ گواہان کو طلب نہیں کیا جائے گا۔ اس سے قبل گواہان کو طلب کرنے پر رائے شماری کروانے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ 5 روز تک جاری رہنے والے مواخذے کے مقدمے کی کارروائی ابھی مزید جاری رہے گی۔

اس موقع پر ٹرمپ کی جانب سے پیش ہونے والا وکلا کا کہنا تھا کہ کیپٹل ہل پر حملے کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ وکلا کے مطابق سابق صدر کو 6 جنوری کے واقعات کیلئے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد موردِ الزام ٹھیرانا غیر قانونی ہے۔ جمعے کو سابق صدر کی دفاعی ٹیم کے دلائل سننے کے بعد سینیٹرز نے استغاثہ اور دفاعی وکلا سے سوالات کا سیشن کیا۔

اس موقع پر ریاست مین اور الاسکا سے ری پبلکن سینیٹرز سوسن کولنز اور لیزا مرکوسکی، جو اس سے پہلے بھی ٹرمپ کے اقدامات کی ناقد رہی ہیں، نے سوال کیا کہ سابق صدر کو کس موقع پر حملے کی اطلاع ملی اور انہوں نے اس پر کیا اقدامات کیے؟۔ جس پر سابق صدر ٹرمپ کا دفاع کرنے والے وکیل وین ڈر وین نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا اور اس معاملے کی تحقیق نہ کرنے پر ڈیموکریٹ پارٹی کو موردِ الزام ٹھیرایا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 100 نشستوں پر مشتمل سینیٹ میں اس وقت ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹی کے 50-50 ارکان ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے یا انہیں مجرم ثابت کرنے کیلئے ایوان کے 2 تہائی ارکان کی حمایت یعنی 67 ووٹوں کی ضرورت تھی۔

مواخذے کے مینیجر میری لینڈ کی نمائندگی کرنے والے جیمی ریسکن کا کہنا تھا کہ جو معلومات طلب کی جا رہی ہیں وہ مکمل طور پر صدر کے پاس ہیں اور یہ کہ سابق صدر ٹرمپ کو مواخذے کی کارروائی میں دفاع کی دعوت دی گئی تھی مگر انہوں نے اس کو رد کر دیا۔

واضح رہے کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ پر 6 جنوری کو اپنے حامیوں کو پارلیمنٹ حملے پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز دونوں جماعتوں کو اپنے شواہد اور دلائل پیش کرنے کے لیے 16، 16 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔ لیکن سابق صدر کے وکلا نے کہا تھا کہ انہیں دلائل پیش کرنے میں ایک ہی دن لگے گا۔

دوسری جانب سابق امریکی صدر نے سینیٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ یہ امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کا تاریخی اور خوبصورت لمحہ ہے، ابھی تو شروعات ہوئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں اور بھی بہت کچھ بتانا ہے۔

قبل ازیں ٹرمپ نے مواخذے کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی تھی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

آج کی اہم خبر: سینیٹ الیکشن کیلئے امیدواروں میں جوڑ توڑ جاری

آج کی اہم خبر: سینیٹ الیکشن کیلئے امیدواروں میں جوڑ توڑ جاری

سابق امریکی ماڈل کی لاش ہائی وے سے برآمد

سابق امریکی ماڈل کی لاش ہائی وے سے برآمد