in

یمن: دکانوں پردستیاب خواتین کے زیریں لباس کےڈبے نذرآتش

یمن: دکانوں پردستیاب خواتین کے زیریں لباس کےڈبے نذرآتش

یمن میں حوثی کارکنان نے دکانوں پر دستیاب خواتین کے زیر جامہ ملبوسات کی پیکنگز پر چھپی تصاویر کو قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے ان ڈبوں کو نذر آتش کردیا.
العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق یمنی دارلحکومت کے مقامی عہدیداروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے صنعاء کے مختلف علاقوں میں خواتین کے زیر جامہ کی پیکنگ کے لیے استعمال ہونے والے ڈبوں کو جمع کر کے نذر آتش کر دیا ہے۔ حوثیوں کے بقول زیر جامہ پیکنگ مواد پر خواتین کی شائع کردہ تصاویر پاک بازی کے معیار کے برخلاف تھیں۔

خواتین کے زیر جامہ فروخت کرنے والے مقامی دکاندار محمد العلیمی کے مطابق کہ حوثیوں کی وزارت تجارت نے خواتین کی تصاویر والا پیکنگ مواد قبضے میں یہ کہتے ہوئے ضبط کیا ہے کہ یہ مواد ’ حیا باختگی اور بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔

ایک اور تاجر عمر الوصابی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی اس مہم کا اطلاق خواتین کے زیر جامہ فروخت کرنے والی شہر کی تمام دکانوں پر کیا جا رہا ہے۔ خواتین کی تصاویر والے سیںکڑوں ڈبوں کو یہ کہتے ہوئے آگ لگا دی گئی کہ ایسی تصاویر کی نمائش جائز نہیں۔
حوثیوں کی اس کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا تھا کہ صنعاء اور اپنے زیر نگین دوسرے علاقوں میں خواتین کے کپڑوں کی دکانوں سے سامان کی ضبطی دراصل خواتین کی عبایا میں استعمال ہونے والی بیلٹوں سمیت ریستوران اور کیفے کی بند کرنے کی مہم کا ہی حصہ ہے جس میں بینکوئیٹ ہالز کو بھی بے سروپا الزام لگا کر بند کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس حوثی جنگجوؤں نے خواتین کے عبایا یا برقعوں کے اوپر باندھی جانے والے بیلٹوں کو ضبط کر لیا تھا۔ اس سے قبل صنعاء کے اکلوتے خواتین کیفے کی تالا بندی کے علاوہ بیوٹی پارلرز کو خواتین کے بال تراشنے سے بھی منع کر دیا گیا تھا۔ حوثی ملیشیا سن 2014 سے صنعاء سمیت اپنے زیر نگین دوسرے علاقوں میں اپنے قوانین نافذ کر رہی ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

غیرقانونی طریقے سےشناختی کارڈ کااجرا،نادراافسران کیخلاف مقدمہ

غیرقانونی طریقے سےشناختی کارڈ کااجرا،نادراافسران کیخلاف مقدمہ

سونے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا

سونے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا