in

بھارت کو رافیل طیارے دینے میں کرپشن،تحقیقات شروع

بھارت کو رافیل طیارے دینے میں کرپشن،تحقیقات شروع

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی عدالت نے حکومت کی بھارت سے رافیل طیاروں کی ڈیل سے متعلق تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ فرانسیسی عدالت نے رافیل طیاروں کی خرید و فروخت میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور جانبداری کے الزامات کی بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ رواں برس 22 اپریل کو پیرس کے جیوڈیشل کورٹ میں مودی حکومت اور فرانس کی دسالٹ ایویشن کمپنی کے مابین 36 رافیل طیاروں کے حوالہ سے طے پانے والے سودے کے خلاف ایک شکایت درج کرائی گئی تھی۔

فرانس کی پبلک پراسیکیوشن سروسز کی فنانشل کرائم برانچ کا کہنا ہے کہ رافیل کے سودے میں ہونے والی بدعنوانی کی تحقیقات کی جائیں گی،فرانس کی غیر سرکاری تنظیم شیرپا کی جانب سے رافیل سودے میں کرپشن اور بدعنوانی کی شکایات کے بعد تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فرانس نے بھارت سے 2016 میں 36 رافیل طیاروں کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا جس کی مالیت 58 ہزار کروڑ روپے کے لگ بھگ تھی۔ ماضی میں بھی طیاروں کے لین دین اور معاہدے کے معاملے پر متعدد بار فرانسیسی حکومت پر تنقید کی گئی۔ فرانسیسی میڈیا بھی اس بات پر کئی بار آواز اٹھا چکا ہے۔

واضح رہے کہ فرانس کی ایئرکرافٹ بنانے والی کمپنی کو بھی اس معاہدے کے حوالے سے تنقید اور سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ 7 ارب 8 کروڑ یورو کی ڈیل کر کے 36 طیارے بھارت کے حوالے کیے گئے۔

کمپنی نے اپنے اوپر عائد ہونے والے الزامات کی تردید کی اور طیاروں کی فروخت کے حوالے سے تمام شواہد پیش کرنے کی پیش کش بھی کی ہے۔

تاحال دسالٹ ایوی ایشن کی جانب سے تحقیقات کی خبر سامنے آنے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کمپنی نے اس سے انکار کیا تھا کہ بھارت کو رافیل بیچنے کے سودے میں کسی طرح کی کرپشن ہوئی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اصل معاہدہ میں ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) شامل تھی لیکن بعد میں دونوں فریقوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ بعدازاں دونوں ممالک کے درمیان سن 2016 میں ایک معاہدہ کیا گیا تھا جس کے تحت 36 رافیل طیاروں کی قیمت 7.8 بلین یورو طے کی گئی۔ انل امبانی کی ایک ناتجربہ کار کمپنی کو سودے میں شامل کئے جانے پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔

بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ حکومت کے ذریعہ 126 رافیل جنگی طیاروں کی خریداری کے لئے فرانس کی کمپنی دسلاٹ کو ٹندر دیا گیا تھا، جس میں ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ(ایچ اے ایل) کو اس کا شراکت دار بنایا گیا تھا۔ اس ٹیندر کو صدی کا سودا کہا گیا تھا۔ مودی کی حکومت آنے کے بعد ایچ اے ایل کی جگہ انل امبانی کو سودے میں مسلط کر دیا گیا اس سے نریندر مودی کے قریبی دوست انل امبانی کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا تھا جن کے ساتھ کچھ اور ہندوستانی کمپنیوں کو بھی قریب 4 بلین یورو کے آفسیٹ کنٹریکٹ کا فائدہ ہوا۔

رافیل سودے میں کرپشن سامنے آنے پر بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی مودی سرکار پر سوال اٹھائے تھے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اس سال نہ امتحانات ملتوی ہونگے نہ کینسل،شفقت محمود

اس سال نہ امتحانات ملتوی ہونگے نہ کینسل،شفقت محمود

توہین آمیزمواد کیس: ختم نبوتؐ کامضمون ماسٹرزتک شامل کرنیکا حکم

توہین آمیزمواد کیس: ختم نبوتؐ کامضمون ماسٹرزتک شامل کرنیکا حکم