in

افغان امن اور تخریبی ہتھکنڈے

افغان امن اور تخریبی ہتھکنڈے

دنیا جانتی ہے کہ مومن و مظلوم افغان عوام کے وطن پر امریکا نے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملہ کرکے قبضہ کیا ہے۔ بعینہ دسمبر1979 ء میں سویت روس کی فوجیں زمینی اور ہوائی راستوں سے داخل ہوئیں۔ کابل کے دار الامان ( ایوان صدر ) پر حملہ کرکے کمیونسٹ صدر حفیظ اللہ امین کو صدارتی دستے اور بچوں سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا۔

سرخ فوجی قبضے کے خلاف افغان عوام نے آزادی کی مسلح تحریک کا آغاز کردیا۔ غلامی کے اس 14 سالہ دور میں لاکھوں افغان شہید و زخمی اور معذور کئے گئے۔ قید خانوں میں ڈالے گئے۔ پچاس لاکھ باشندے ہمسایہ اور دوسرے ممالک میں مہاجرت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوئے۔ روسی چھتری کے نیچے حکومتیں کرنے والے اس سارے منظر نامے کو آزادی و استقلال سے تعبیر کرنے کا پرو پیگنڈہ کرتے رہے۔ ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب ماسکو سے فوجیں نہ نکالنے کی درخواستیں کرتے، انہیں سب ٹھیک کے فریب میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے۔

آٹھ اکتوبر 2001 کو امریکی شب خون کے بعد جارحیت، حملوں، قید و بند اور قتل و غارت کی برابر وہی فلم دہرائی جا رہی ہے۔ افغان عوام جدید و مہلک ہتھیاروں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایران اور پاکستان نے بھی سامراجی فوجوں کا ساتھ دیا۔ ایران کے جاسوسی ادارے کے اہلکاروں نے جنیوا پہنچ کر افغان طالبان کے خلاف دستیاب تمام معلومات فراہم کردیں۔ جنرل قاسم سلیمانی اس مہم کی قیادت پر مامور تھے۔ جنرل سلیمانی نوے کی دہائی کی اوائل میں خفیہ مشن پر افغانستان میں مقیم تھے۔ افغانستان کے اندر سے وقفیت ر کھتے تھے۔ امریکا کو ایران میں پناہ لیے حزب اسلامی کے سربراہ گلبندین حکمتیار کی حوالگی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ کیوں کہ امریکی سی آئی اے حکمت یار کو طالبان مخالفت اور افغانستان میں بیرونی افواج کی حمایت پر آمادہ کرنے میں ناکام ہوئی۔

افغانستان پر حملے سے قبل حامد کرزئی اور زلمے خلیل زاد ایران میں پناہ لینے والے گلبدین حکمتیار کے پاس واشنگٹن کا پیغام لے کر گئے تھے۔ انہیں مراعات اور حکمرانی کی پیشکش کی گئی مگر گلبدین حکمت یار نے پیشکشیں مسترد کردیں اور واشنگٹن پر واضح کردیا کہ وطن پر حملے کی صورت میں اس کی جماعت غیر ملکی افواج کے خلاف مزاحمت کرے گی۔ اس سے پہلے کہ ایران میں حکمتیار حراست میں لے لیے جاتے، وہ افغانستان سے نکل گئے اور بیرونی قبضے کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔ رفتہ رفتہ افغان طالبان نے بھی تحریک کا آغاز کردیا اور پھر ہوا یوں کہ امریکا نے بھارت کو پاکستان پر ترجیح دے کر گویا اسے کابل حکومت کی کنجیاں تھمادیں۔ چناں چہ پرویز مشرف رجیم کے ہاتھ سوائے رسوائی و بربادی کے کچھ نہ آیا۔

افغانوں کی طویل و صبر آزما تحریک مزاحمت کے نتیجے میں امریکا کو با لآخر مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔ فروری 2018ء میں قطر میں طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا جو 29 فروری 2020ء کو دوحہ معاہدے پر منتج ہوا۔ امریکی افواج کے افغانستان سے 14 مہینوں میں انخلاء، ا فغان سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ کرنے اور دس دن کے اندر اندر افغانستان کے جیلوں میں پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان حراست میں ایک ہزار افغان فورسز کے اہلکاروں کی رہائی جبکہ مئی 2021 تک امریکی افواج کا انخلا یقینی بنانے پر اتفاق ہوا۔

نئی دہلی اور کابل کی حکومت نے امن معاہدے پر اثر انداز ہونے اور اسے قابل عمل نہ بنانے کے تخریبی ہتھکنڈے شروع کردیے ہیں۔ امن معاہدے کے تحت رہا ہونے والے طالبان کے گھروں پر چھاپے مارنا شروع کر دیے۔ گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ ان کا ہدفی قتل کیا جاتا ہے۔ قتل اور لوٹ مار کے پر اسرار واقعات کابل اور ملک کے دوسرے حصوں میں رونما ہونا شروع ہوئے۔ اساتذہ، صحافیوں، علماء، انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین ججز قتل ہوئیں تاکہ اس کے لیے افغان طالبان کو معتوب ٹھرایا جاسکے۔ در حقیقت طالبان معاہدے پر پوری طرح کاربند ہیں۔ خلاف ورزیاں البتہ امریکی و نیٹو فورسز کی جانب سے ہوئی ہیں۔ جن کی طرف سے متواتر شہری آبادیاں نشانہ بنی ہیں۔ پرفریب گروہی ہتھکنڈ وں، لیت و لعل کے حربوں کے باوجود 12 ستمبر 2020 کو قطر کے اندر بین الافغان مذاکرات بھی شروع ہوئے۔

 اشرف غنی پس پردہ طالبان کو پیغامات بھیج چکے ہیں کہ انہیں عبوری صدر کے طور پر ہی قبول کر لیں۔ طالبان آماد ہ ہوئے۔ اشرف غنی اور ان کے نائبین کے بہتانات، زہریلی گفتگو اور ہرزہ سرائی بدستور جاری ہے۔ اشرف غنی پر معروضی حالات واضح ہیں۔ جانتے ہیں ڈاکٹر نجیب اللہ کی طرح وہ بھی شمال کے مضبوط جتھوں کے آگے بے بس و حصار میں ہیں۔ تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ ایران اور بھارت کے مالی تعاون سے نجی ملیشیائیں منظم کی جاچکی ہیں۔ جنرل رشید دوستم اس ذیل میں اہم مہرہ ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا اشرف غنی کو داعش کے خلاف افغانوں پر مشتمل اپنی تربیت یافتہ ملیشیا فاطمیون کی خدمات کی پیشکش آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن کی نئی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر نظر ثانی کا عندیہ دیا ہے کہ افغان معاہدے پر عملدرآد سے قبل اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا طالبان امن کے لیے جنگ بندی کے اپنے دعوﺅں پر عملدرآمد کررہے ہیں یا نہیں۔ اس پر کابل کی کٹھ پتلیوں نے بغلیں بجانا شروع کردی ہیں۔ حالاں کہ امن عمل کو امریکا اور اس کی زیردست کابل کی حکومت ہی نے پامال کیا ہے اور حقیقت یہ بھی ہے کہ غیر ملکی جنگجوﺅں کی پشت پناہی بھارت کی طرف سے ہورہی ہے۔

حالیہ دنوں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی بھارت سے نوجوان داعش میں بھرتی ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ ایسا بھارت کے جاسوسی کے اداروں کی پالیسی کے تحت ہو رہا ہے۔ ”را“ ہی نے پچھلے سال اگست میں افغانستان کے اندر پاکستان مخالف مسلح گروہوں جماعت الآحرار، حزب الآحرار اور تحریک طالبان پاکستان کے مابین صلح اور انضمام کرایا۔ یہ گروہ اور داعش مشترکات کے تحت جڑے ہیں۔ القاعدہ کے بچے کھچے لوگ ان ہی گرہوں کا حصہ بنے ہیں۔ یعنی نئی امریکی انتظامیہ ان عوامل کا باریک بینی اور حقیقت پسندی کے ساتھ تجزیہ کرے۔ القاعدہ کا ایران کے ساتھ تعلق رہا ہے اور داعش عراق و شام میں ایران کی پراکسی جنگ ہی کی پیدوار ہی ہے۔ گویا القاعدہ کو افغان طالبان سے جوڑنے کے الزام میں معقولیت نہیں ہے۔ چناں چہ امریکا ہی نشاندہی کرے کہ اب جبکہ 6 جنوری کو دوحا میں بین الافغان بات چیت جاری ہے تو وہ کون عناصر ہیں جو افغانستان میں امن دیکھنا نہیں چاہتے۔ جو زبان اور علاقے کی بنیاد پر حالات، تفریق وتصادم کی طرف لے جار ہے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بختاور کی شادی: فضل الرحمان کو دعوت کیوں نہیں ملی؟

بختاور کی شادی: فضل الرحمان کو دعوت کیوں نہیں ملی؟

اڑن طشتریاں: کیا حقیقت کیا فسانہ

اڑن طشتریاں: کیا حقیقت کیا فسانہ