in

کیا امریکا بدنام زمانہ گوانتا ناموبے جیل بند کر رہا ہے؟

کیا امریکا بدنام زمانہ گوانتا ناموبے جیل بند کر رہا ہے؟

رپورٹس کے مطابق رواں سال 9/11 کے 20 سال مکمل ہونے پر ستمبر میں اس جیل کو بند کردیا جائے گا، جہاں نائن الیون سمیت کئی دیگر اہم مقدمات کے ملزمان موجود ہیں۔

سابق امریکی اہل کار کا نام نہ بتانے کی شرط پر کہنا تھا کہ امریکی صدر اس غلطی کو نہیں دہرانا چاہتے جو سابق صدر براک اوباما نے کی تھی، یہ ہی وجہ ہے کہ نائن الیون کی 20 ویں برسی کے موقع پر امکان ہے کہ جیل کو مکمل طور پر بند کردیا جائے، جس پر کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جیل کو کھلا رکھنے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جب کہ ان کے دور حکومت میں ایک قیدی کو دوسرے ملک کے حوالے بھی کیا گیا۔

موجودہ امریکی صدر بائیڈن کے برسر اقتدار آنے کے بعد کیوبا کی ساؤتھ ایسٹ کوسٹ کی اس جیل میں اب بھی ایسے 40 قیدی موجود ہیں، جن کے بارے میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ انہیں جلد کسی دوسرے ملک کے حوالے کردیا جائے گا۔ جس میں 2 یمنی اور ایک پاکستانی شامل ہیں، تاہم ان کی شناخت یا ناموں سے متعلق کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ مئی میں 3 مزید قیدیوں کو نامزد کردہ ممالک کے حوالے کرنے کا اہل قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان قیدیوں کو کب کب اور کس ملک کو بھیجا جائے گا۔

ان تینوں قیدیوں کو دوسرے ممالک کے سپرد کرنے کی منظوری امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں دی گئی ، جس کی سربراہی جو بائیڈن نے کی تھی۔ اجلاس میں وزارت دفاع کے اراکین بھی شامل تھے۔

جیل میں قید درجن کے قریب ایسے قیدی بھی ہیں، جن کی قسمت سے متعلق فی الحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکا، جس میں 9/11 کے سزا یافتہ مجرمان بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 10 قیدی ملٹری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے ہیں، یہ وہ قیدی ہیں، جو کسی نہ کسی طور امریکی سلامتی کیلئے خطرہ بنے ہیں۔ جب کہ 2 قیدیوں کو امریکی ملٹری کمیشن سے سزا ہوچکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ سب سے زیادہ خطرناک سمجھے جانے والے قیدیوں کے مقدمے کی کارروائی سے قبل ہی فوجی اور سیاسی انتظامیہ قیدیوں سے متعلق اس ڈیل پر پہنچ جائے کہ انہیں کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے کے بجائے امریکی سرزمین پر ہی قید رکھا جائے اور ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں دوبارہ خطرہ نہ بن سکیں۔

اس سے قبل رواں سال فروری میں وائٹ ہاؤس ترجمان کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن کے دور صدارت میں کیوبا میں قائم جیل کی ممکنہ بندش کے بارے میں حتمی طور کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر یہ یقینی طور پر ہمارا مقصد اور ہمارے ارادوں میں شامل ہے۔‘



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زبیرعمر ترسیلات زر میں اضافےپر حکومتی کارکردگی کے معترف

زبیرعمر ترسیلات زر میں اضافےپر حکومتی کارکردگی کے معترف

منی لانڈرنگ کیس: حسین لوائی کی رہائی کی روبکار جاری

منی لانڈرنگ کیس: حسین لوائی کی رہائی کی روبکار جاری