in

بھارتی کسانوں نے لال قلعہ پر اپنا پرچم لہرا دیا

بھارتی کسانوں نے لال قلعہ پر اپنا پرچم لہرا دیا

بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے دلی میں لال قلعہ پر پرچم لہرا دیا۔ دوسری جانب کسانوں اور پولیس کے مابین جھڑپیں جاری ہیں۔ اب تک ایک کسان ہلاک ہوچکا ہے جبکہ دلی میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔

بھارت بھر کے کسان 3 نئے زرعی قوانین کے خلاف 26 نومبر سے دلی کے بارڈرز پر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں اور آج بھارت کے یوم جمہوریہ پر انہوں نے دلی میں ٹریکٹر ریلی کا انعقاد کیا۔ کسان رہنماؤں کے مطابق لگ بھگ 3 لاک ٹریکٹرز ریلی میں حصہ لے رہے ہیں۔

ریلی سے قبل پولیس اور مظاہرین کے مابین معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت کسانوں کو ایک مخصوص روٹ دیا گیا تاکہ وہ شہر کے مرکزی علاقوں میں داخل نہ ہوں اور حکومتی ایوانوں سے دور رہیں مگر ریلی شروع ہوتے ہی کسان ٹولیوں میں بٹ گئے اور مختلف سڑکوں پر چل پڑے۔

کسانوں کے ایک گروہ نے لال قلعہ کا رخ کیا اور پولیس کی رکاوٹیں ہٹاکر اندر داخل ہوگیا۔ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک کسان کھمبے پر چڑھ کر پرچم لہرا رہا ہے جہاں پہلے بھارت کا قومی پرچم لہرا رہا تھا۔ کسان نے اس کو نہیں چھیڑا۔

اس ویڈیو کے بعد بھارت کا مودی نواز میڈیا اس پرچم کو ’خالصتان کا پرچم‘ قرار دے کر کسانوں کے احتجاج کے خلاف سرگرم ہوگیا ہے جبکہ سکھ رہنماؤں اور آزاد میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ یہ پرچم سکھوں کے گردواروں اور دیگر مقدس مقامات پر لہرایا جاتا ہے۔ اس پر چم کو نشان صاحب کہا جاتا ہے اور اس کا خالصتان سے کوئی تعلق نہیں۔

دریائے جمنا کے کنارے واقع لال قلعہ سلطنت مغلیہ کے سنہری دور کی یادگا رہے۔ اسے سترویں صدی میں مغل بادشاہ شاہجہان نے تعمیر کرایا تھا۔ اسی قلعے کے دیوان خاص میں تخت طاؤس واقع ہے جہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے۔

یہ سلسلہ 1857ء کی جنگ آزادی تک جاری رہا جب غدر کے دوران انگریز فوج نے دلی پر قبضہ کرلیا تو مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو قلعہ سے نکل جانے کا حکم دیا اور انگریزوں نے انہیں شہر کے جنوب میں واقع قطب مینار کے احاطے میں منتقل کر دیا۔

دلی پولیس نے احتجاجی کسانوں کو روکنے کیلئے جگہ جگہ کنٹینرز، کنکریٹ کے بلاک، بسیں، ٹرک اور دیگر بھاری رکاوٹیں کھڑی کی تھیں مگر کسانوں نے ٹریکٹرز کے ذریعے تمام رکاوٹیں ہٹادیں۔

ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس کی دو بسیں روڈ کے درمیان کھڑی ہیں اور 4،5 ٹریکٹرز ان کو ایک طرف سے دھکیل رہے ہیں۔ اس دوران بسوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ پولیس حسرت سے کسانوں کو دیکھتی رہی اور وہ اپنا راستہ صاف کرکے نکل گئے۔

ایک اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کسانوں نے پولیس کی کرین چھین لی ہے اور اس پر بیٹھ کر ریلی کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تحریک انصاف حکومت نے 12 ارب ڈالر کا قرضہ لینے کا فیصلہ کرلیا

تحریک انصاف حکومت نے 12 ارب ڈالر کا قرضہ لینے کا فیصلہ کرلیا

سعودی دارالحکومت ریاض دھماکے سے لرز اٹھا

سعودی دارالحکومت ریاض دھماکے سے لرز اٹھا