in

اسلام دشمنی نے پاکستانی نژاد کینیڈین بچے کو تنہا کردیا

اسلام دشمنی نے پاکستانی نژاد کینیڈین بچے کو تنہا کردیا

کہنے کو کینیڈا کو تمام مذاہب کے ماننے والے تارکینِ وطن کا خیر مقدم کرنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے، جہاں بسنے کیلئے ہر سال ہزاروں افراد ایکسپریس انٹری یا دیگر ذرائع سے مستقل سکونت اختیار کرنے کیلئے اپنی اپنی قسمت آزماتے ہیں، تاہم یہاں اس سے قبل بھی مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

سال 2017 میں فرانسیسی زبان بولنے والے دائیں بازو کے قوم پرست شخص نے کیوبک شہر کی ایک مسجد میں گھس کر فائرنگ سے 6 افراد کو قتل کیا۔

کینیڈین صوبے البرٹا سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی فیملی نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ مغربی ممالک میں رہائش پذیر اکثر مسلم کمیونٹی کے افراد جب نیا نیا یہاں کا رخ کرتے ہیں تو انہیں ان معاشرے میں اپنی جگہ بنانے اور رہنے کیلئے اکثر رنگ ڈھنگ تبدیل کرنا پڑتا ہے، تاکہ لوگ انہیں مذہبی منافقرت کا نشانہ نہ بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وقت کیساتھ ساتھ کچھ چیزیں تو تبدیل ہوجاتی ہیں اور آپ کے آس پاس کے لوگ آپ کو سمجھ جاتے ہیں، مگر پھر بھی کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کسی طور آپ کو یہاں کے حصے کے طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور چاہتے ہیں کہ آپ یہاں سے چلے جائیں۔

امریکا کے شہر بوسٹن میں مقیم ایک مسلم فیملی سے جب سما ڈیجیٹل نے اسلامو فوبیا سے متعلق دریافت کیا کہ کیا کبھی انہیں وہاں رہتے ہوئے ایسے کسی رویے کا سامنا کرنا پڑا جس میں مسلمان ہونے پر تعصب پرتا گیا، تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں بحیثیت مسلمان سرکاری سطح پر تو تحفظ حاصل ہے مگر لوگوں کی انفرادی نفرت یا ان کے رویہ کے بارے میں آپ کچھ نہیں کرسکتے۔

دیکھا جائے تو کینیڈا میں اتوار 7 جون کی رات پیش آنے والا واقعہ منظم انداز میں بڑھتے اسلاموفوبیا کا ایک اور مظہر ہے۔ ایک وہ ملک جہاں کے سربراہ مملکت بار بار مذہبی ہم آہنگی اور اسلامو فوبیا کے خلاف بیان دے چکے ہیں، وہاں ایسے واقعات کینیڈا کا امتحان بھی ہیں۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ پال ویٹ کے مطابق ملزم نے اقرار کیا ہے کہ اس نے متاثرہ خاندان کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ہی نشانہ بنایا تھا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ملزم کا منافرت میں یقین رکھنے والے کسی گروہ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

اخباری نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پال ویٹ نے نفرت پر مبنی الزام کے حوالے سے کوئی تفصیلی ثبوت پیش نہیں کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق امریکا میں مسلم اکثریت 6 کینیڈا میں تقریباً2 ملین سے زائد مسلمانوں کی آبادی ہے، اور جہاں عیسائیت کے بعد اسلام دوسرا بڑا مذہب تصور کیا جاتا ہے۔ ٹورنٹو میں مسلمانوں کی اکثریت 7.7 جب کہ فرانسیسی اکثریت کے حامل صوبے کیوبک کے شہر مونٹریال میں یہ تناسب 6 فیصد ہے۔ جب کہ کینیڈا میں اسلام تیزی سے پھیلنے والا مذہب بھی ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

شوگرمافیاجیسےلوگ بہت سےاداروں میں موجودہیں،عمران

شوگرمافیاجیسےلوگ بہت سےاداروں میں موجودہیں،عمران

یاسرنواز کا حکومت سے دلوں کو چھولینے والا مطالبہ

یاسرنواز کا حکومت سے دلوں کو چھولینے والا مطالبہ