in

نظربد سے بچنے کیلئے ‘لوازمات’ پہننا حرام قرار

نظربد سے بچنے کیلئے ‘لوازمات’ پہننا حرام قرار

ترکی کے ادارہ برائے مذہبی امور نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ نظر بد سے بچنے کیلئے لوازمات پہننا اسلام میں ممنوع ہے۔ اس پر شہریوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بے ضرر چیز کے خلاف فتویٰ سمجھ سے بالاتر ہے۔

ترکی میں مذہبی امور کیلئے دینیات کے نام سے قومی ادارہ قائم ہے جو کو آپ پاکستان کا اسلامی نظریاتی کونسل سمجھ سکتے ہیں۔ یہ مذہبی معاملات میں ملک و قوم کی رہنمائی کرتا ہے اور قانون سازی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق جانچنے کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔

ترکی سمیت ایشیا کے بعض ممالک میں یہ روایت رہی ہے کہ لوگ نظربد سے بچنے کیلئے گلے میں لاکٹ، کلائی میں چین، دھاکے وغیرہ باندھ لیتے ہیں۔ ترکی میں خاص طور پر اس کیلئے ’ایک آنکھ کی شکل میں بنے لوازمات تیار ہوتے ہیں۔

دینیات کی جانب سے جاری فتوے کے مطابق ’ہمارے مذہب (اسلام) میں ایسے رویے، طرز عمل یا عقائد رکھنا ممنوع ہیں جن میں اللہ کے سوا کسی چیز کو زندگی کے معاملات پر قادر سمجھا جاتا ہو۔ لہذا آنکھ والے تعویذ اور اسی طرح کی چیزوں کو گلے میں ڈالنا یا کہیں بھی پہننا جائز نہیں ہے۔

ترک ماہرین کے مطابق اس خطے میں یہ روایت 3 ہزار 500 سال قبل مسیح سے چلی آرہی ہے۔ اس میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آنکھ والی لوازمات پہننے سے جادو ٹونہ اور نظربد سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ برصغیر میں بھی تعویز گنڈوں اور دھاگوں کی روایت صدیوں سے رہی ہے۔

دینیات نے اپنے فتوے میں یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اگرچہ شیطانی آنکھ کا اسلامی تعلیمات میں کوئی ذکر نہیں ملتا مگر بعض لوگ ’نظر لگاکر‘ منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

شہریوں نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بے ضرر چیزیں ہیں۔ بعض لوگ شوقیہ آرائش و زیبائش کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

آدمی نے ناجائز تعلقات کا الزام لگا کر بیوی کو قتل کرکے لاش 100 کلومیٹر دور پھینک دی

آدمی نے ناجائز تعلقات کا الزام لگا کر بیوی کو قتل کرکے لاش 100 کلومیٹر دور پھینک دی

فردوس مارکیٹ سے گم ہونے والا بچہ راولپنڈی سے مل گیامگر پولیس کے نظام پر کئی سوالات چھوڑ گیا

فردوس مارکیٹ سے گم ہونے والا بچہ راولپنڈی سے مل گیامگر پولیس کے نظام پر کئی سوالات چھوڑ گیا