in

نئی امریکی حکومت کاطالبان سے امن معاہدے پر نظرثانی کافیصلہ

نئی امریکی حکومت کاطالبان سے امن معاہدے پر نظرثانی کافیصلہ

امریکا کی نئی بائیڈن حکومت نے امریکا اور طالبان کے درمیان فروری 2020ء میں طے ہونیوالے امن معاہدے پر نظرثانی اور دوبارہ جائزے کا فیصلہ کرلیا۔

نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے 21 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کئی فیصلوں کو معطل کردیا تھا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ فروری 2020ء میں طے پایا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا اعلان کیا تھا۔

معاہدے کے بعد سے اب تک 2500 امریکی فوجی افغانستان چھوڑ کر امریکا واپس جاچکے ہیں، اس وقت افغانستان میں 2500 امریکی اور اس کے اتحادی فوجی موجود ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیوان نے اپنے افغان ہم منصب حمداللہ محب کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کیا، دونوں رہنماوٗں نے امریکا افغان تعلقات اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق بات چیت کی۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ افغانستان اور طالبان کے درمیان ایک پائیدار امن معاہدے کو یقینی بنانے کیلئے امریکا ہر ممکن تعاون کرے گا، تاہم بائیڈن انتظامیہ امریکا طالبان معاہدے پر نظرثانی کرے گی، افغان حکومت کو بھی اس پر اعتماد میں لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دیکھا جائے گا کہ امن معاہدے کے بعد افغانستان میں دہشت گرد حملوں اور افغان طالبان کے جنگجوؤں کے ساتھ تعلقات کس نوعیت کے ہیں، بائیڈن انتظامیہ امن معاہدے پر نیٹو اتحادیوں سے بھی مشاورت کریگی۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ افغان خواتین کیلئے جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور خواتین کو ہر شعبے میں آگے آنے میں مدد فراہم کریں گے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لیری کنگ 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

شیخوپورہ میں گینگ ریپ کے ملزمان اسلحہ کے زور پر پولیس سے چھڑوالیے گئے

شیخوپورہ میں گینگ ریپ کے ملزمان اسلحہ کے زور پر پولیس سے چھڑوالیے گئے