in

پوچھاگیااچھےکردارکےبدلےہمیں کیادیں گی؟ صبابخاری

پوچھاگیااچھےکردارکےبدلےہمیں کیادیں گی؟ صبابخاری

کاسٹنگ کاوچ کا مسئلہ صرف بالی ووڈ میں ہی نہیں، حال ہی میں اس حوالے سے آواز اٹھانے والی اداکارہ صبا بخاری کا کہنا ہے کہ پاکستان شوبزانڈسٹری میں بھی لڑکیوں سے نامناسب مطالبات کیے جاتے ہیں۔

ڈرامہ سیریل ” دل ناامید تونہیں ” میں کام کرنے والی اداکارہ صبا بخاری نےچند روز قبل انسٹاپوسٹ پر لکھا تھا کہ مجھے ڈائریکٹر سمیت مختلف لوگوں کی جانب سے کہاڈ گیا کہ مسئلہ یہ ہے کہ تم اچھی لڑکی ہو اور اس فیلڈ میں گڈ گرل نہیں چلتی۔ہم تمہیں کام اورپیسے کیوں دیں جب یہاں لڑکیاں کام کے لیے سونے کو تیارہیں، ایسے الفاظ نے مجھے اندر سے توڑ دیا۔

اسی حوالےسے بی بی سی کودیے جانے والے تازہ انٹرویو میں صبا نے کہا کہ2013 میں وہ کم عمر تھیں اوربڑی مشکل سے انہیں ” ہم سب امید سے ہیں ” نام شو میں مزاحیہ کردار نبھانے کا موقع ملا تھا۔ صبا کو لگا کہ شوبز میں بڑے ستاروں کے ساتھ کام کرنا قسمت کی بات ہوتی ہوگی، مگر آہستہ آہستہ یہ چارم مانند پڑگیا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی صبا شوبزمیں کام کے بدلے جنسی تعلقات کی پیشکش سے تنگ آچکی ہیں۔ انہوں نے کہا ” جب میں چھوٹی تھی تب مجھے یہ باتیں سننے کو نہیں ملی تھیں۔ پھر میں نے خود کو گروم کیا تاکہ بڑے رول مل سکیں۔ اب اگر ان (کاسٹنگ ٹیم) کے سامنے جاؤ تو ان کی نیت ہی کچھ اور ہو جاتی ہے۔ دل بہت زیادہ ٹوٹ گیا ہے”۔

صبا نے بتایا کہ ابتدائی دنوں میں ایک پراجیکٹ کے لیے آڈیشن کے بعد سلیکشن بھی ہوگئی لیکن بعد میں وہ کردار نہیں دیا گیا۔ رات کے گیارہ بجے کال آئی کہ سوری ہم آپ کو ابھی نہیں رکھ رہے، اگلی بار رکھیں گے۔ پھر اسی پروڈکشن نے دوبارہ آڈیشن لیا اوررات کو کال آئی کہ آپ کی سلیشکن ہو گئی ہے، ہم آپ کو اچھا کرداردے رہے ہیں، پیسے دے رہے ہیں لیکن بدلے آپ ہمیں کیا دیں گی؟۔

صبا کا اشارہ کاسٹنگ کاؤچ کی طرف ہے، یعنی فلموں یا ڈراموں میں کام کے بدلے جسمانی استحصال، انہوں نے کہا ” میرے ذہن میں بالکل نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں تو میں نے کہا کہ آپ تھوڑے سے پیسے رکھ لیجیے گا تو انھوں نے ساتھ سونے کی بات کی، میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور میں نے کال کاٹ دی”۔

انہوں نے بتایا کہ مشکل سے کام مل بھی جائے توسینیئر آرٹسٹس بھی بہت مسئلہ کرتے ہیں۔ایک پراجیکٹ میں سینئراداکارہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا لیکن انہوں نے مجھے بہت ٹف ٹائم دیا، ایک بارمجھے سامنے بیٹھا دیکھ کر یہ بھی کہا کہ آج کل تو ذرا سا بھی چہرہ ہوتا نہیں اور منہ اٹھا کرآجاتی ہیں۔

صبا کا کہنا ہے کہ شوبز کی دنیا کے لوگ ہوس سے بھرے ہوئے ہیں۔ مجھے اداکاری کا خواب نہیں دیکھنا چاہیے تھا لیکن اب میں اس فیلڈ میں آ چکی ہوں۔ایک ڈائریکٹر نے جب یہ کہا کہ اچھی لڑکیاں یہاں پر نہیں چلتیں تویہ بات کافی عرصہ میرے ذہن میں چلتی رہی لیکن جب مجھے ” دل نا امید تو نہیں ” کا پراجیکٹ ملا تواس کے بعد مجھے لگنے لگنا کہ نہیں ایسا ممکن ہے۔

اداکارہ نے مزید بتایا کہ انسٹاگرام پر پوسٹ کے بعد کئی لوگوں نے رابطہ کرکے ہمدردی کا اظہارکیا ۔ سوشل میڈیا پسند بھی نہیں تھا کیونکہ یہاں ایک دوسرے کی برائی کی جاتی ہے، لیکن مجھے کافی مثبت ردعمل ملا ہے اور میں سوچ رہی ہوں یہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔

شوبز انڈسٹری میں کام جاری رکھنے کا عزم ظاہرکرنے والی صبا نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ انہیں اپنی محنت اور ہنر کے بل پراچھا کام ملے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سپریم کورٹ کا این اے 75 ڈسکہ ميں 10 اپریل کو پولنگ روکنے کا حکم

سپریم کورٹ کا این اے 75 ڈسکہ ميں 10 اپریل کو پولنگ روکنے کا حکم

اداکارہ اشنا شاہ عالمی ادارے کی سفیر مقرر ہو گئیں

اداکارہ اشنا شاہ عالمی ادارے کی سفیر مقرر ہو گئیں