in

آج پرانی راہوں سے کوئی مجھے آواز نہ دے

آج پرانی راہوں سے کوئی مجھے آواز نہ دے

پشاور کے قصہ خوانی بازار کے محلہ خداداد کے خوبرو یوسف خان نے ممبئی میں ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیں۔ اداکاری کا مغلِ اعظم 7 جولائی کو رخصت ہوگیا۔ سائرہ بانو کا صاحب اُن سے لے لیا گیا۔ فلمی صنعت کا ایک باب بند ہوگیا اور اب کہیں دور سے آواز آرہی ہے کہ آج پرانی راہوں سے کوئی مجھے آواز نہ دے۔

یوسف خان نے دسمبر 1922 میں پشاور میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد پھلوں کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ یوسف خان کی بچپن سے راج کپور سے دوستی تھی جو ان کے گھر کے نزدیک رہتے تھے اور بعد میں بالی ووڈ میں دونوں نے خوب کام کیا۔ یوسف خان نے پشاور سے بھارتی شہر پونے کا سفر سن 1930 کی دہائی کے آخر میں طے کیا تاہم اپنے والد کے ساتھ اختلاف کے بعد وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے اور انھوں نے آرمی کلب کے باہر سینڈ وچ کا اسٹال لگالیا۔ جب انھوں نے ممبئی کا رخ کیا تو ابتدا میں انھوں نے ممبئی ٹاکیز میں کام کیا۔اس دوران پروڈیوسر دیویکا رانی نے ان کو پیشکش کی کہ اپنا نام یوسف خان سے دلیپ کمار رکھ لیں۔ آخر کار 1944 میں انھوں نے فلم جوار بھاٹا سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم میں انھوں نے ایک موسیقار کا کردار ادا کیا تاہم فلم کومقبولیت نہ مل سکی۔

مئی 1947 کو دلیپ کمار نے فلم جگنو میں نورجہاں کے مدمقابل ہیرو کا کردار ادا کیا ۔ اس فلم سے ان کو شہرت ملی ۔ سورج کے نام سے دلیپ کمار کا کردار دیکھنے والوں کے دل میں گھر کر گیا۔ نور جہاں، دلیپ کمار اور گلوکار محمد رفیع نے اس فلم کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچادیا۔

دلیپ کمار بالی ووڈ کے پہلے خان تھے جنھوں نے اس شعبے میں نام بنایا۔ سن 1950 کی دہائی میں وہ پہلے اداکار تھے جو تقریبا ہر فلم میں کام کرنے کا معاوضہ ایک لاکھ بھارتی روپے لیتے تھے جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ ٹریجڈی کنگ کے نام سے مشہور ہونے والے دلیپ کمار نے 1949 میں محبوب خان کی فلم انداز میں بہترین اداکاری کی۔ راج کپور اور نرگس کے ساتھ اس فلم نے اُس وقت ریکارڈ توڑ بزنس کیا۔

سن 1955 میں فلم دیوداس میں دلیپ کمار کا فن سر چڑھ کر بولا۔ وجنتی مالا اور دلیپ کمار کی جوڑی کو فلم بینوں نے بہت پسند کیا۔ساحر لدھیانوی کے گانوں نے فلم کو چار چاند لگادئیے۔ دلیپ کمار نے اس فلم میں بہترین اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیا۔ 50 لاکھ کی لاگت سے بنائی گئی اس فلم نے 1 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کیا۔ سن پچاس کی دہائی میں دلیپ کمار سپر ہٹ ہیرو رہے۔ ان کے 9 فلموں نے اس دور میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی 30 فلموں کی فہرست میں جگہ بنائی۔ دلیپ کمار نے کیرئیر میں 7 بار بہترین اداکاری پر فلم فیئرایوارڈ حاصل کیا جو ایک ریکارڈ ہے۔

انیس سو ساٹھ میں دلیپ کمار نے مدھوبالا کے ساتھ مغل اعظم میں شہزادہ سلیم کا ایسا کردار ادا کیا جس کو دیکھ کر ان کے مداح عش عش کراٹھے۔ بلیک اینڈ وائٹ فلم کو 2004 میں رنگین پرنٹ میں ریلیز کیا گیا تو اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اسلام آباد:لڑکے،لڑکی کوبرہنہ کرکےتشدد کرنےوالا مرکزی ملزم گرفتار

اسلام آباد:لڑکے،لڑکی کوبرہنہ کرکےتشدد کرنےوالا مرکزی ملزم گرفتار

Bonds afp

پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں بانڈز جاری کر دیے