in

بیگناہ میں اس بچے کا گناہ کیا ہے؟

بیگناہ میں اس بچے کا گناہ کیا ہے؟

کٹہرے میں کھڑے ایک بچے پرچیخاجارہا ہے لیکن وہ کچھ بولے گا نہیں، ایک صحافی کی گرج ” تم بولتے کیوں نہیں قاتل” کے جواب میں وکیل سرمد کھوسٹ کے پاس جواب ہے۔ فضامیں بےاعتباری ، حقارت، خوف ہے لیکن ابھی بھی بچے کی معصومیت پریقین ہے۔

یہ ایک بیگناہ کی کہانی ہے۔

 

اس منی ویب سیریز”بیگناہ” کا ٹریلر 18 جنوری کو جاری کیا گیا تھا، ٹریلرنے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی کیونکہ اس میں سرمد کھوسٹ ہیں اور اس میں وہ بچہ ہے جس پردوسرے بچے کے ساتھ زیادتی کا الزام ہے۔

 

یہ کہانی لکھنے والی بہنیں ایزا اورایلیا راٹھور پیشے کے اعتبارسے ایزا ایک فلمسازاورایلیا صحافی ہیں، سماء ڈیجیٹل نے ایک آن لائن انٹرویو میں دونوں کے ساتھ بات کی۔

 

بیگناہ میں ان دونوں بہنوں نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا معاملہ اجاگرکرنے کے ساتھ , بڑوں اور بچوں کے مابین حرکیات ، انصاف اور ذمہ داری جیسے موضوعات کی کھوج کی ہے۔ اس ویب سیریزسے علم ہوتا ہے کہ بعض حالات میں بچوں کے کندھوں پرکتنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

 

بیگناہ کی کہانی کا تصورکہاں سے لیاگیا؟ اس سوال کے جواب میں عزا نے کہا کہ انہوں نے اسےکافی عرصہ پہلے لکھی گئی اپنی ہی کہانی سے متاثر ہوکرلکھا۔ عزا کے مطابق ” میں نے بہت پہلے ایسے بچوں سے متعلق ایک کہانی لکھی تھی جو مجرمانہ حرکات میں ملوث ہوجاتے ہیں، اس لیے میرے پاس پہلے سے ہی مرکزی خیال موجود تھا”۔

 

کیا ایساکردار لکھنا مشکل تھا؟ ایلیا اورعزا نے جواب میں کہا کہ وہ کہانیاں لکھتی ہیں جو تاحال شائع نہیں ہوئیں، وہ عموما سنگین معاشرتی مسائل پرمبنی موضوعات کا انتخاب کرتی ہیں تو یہ کردار کچھ خاص مختلف نہیں تھا۔

 

اس پراجیکٹ کیلئے ان دونوں بہنوں سے گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان نامی ایک این جی او نے رابطہ کیا جو پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے کام کرتی ہے۔ ایلیا نے بتایا ” وہ اس معاملے کو اجاگر کرنے کے لئے ایک دستاویزی فلم بناناچاہتے تھے”۔ اسی این جی اومیں کام کرنےوالے ایک دوست نے تجویز کیا کہ اسے ہم لکھیں۔

 

ابتدائی کہانی بہت زیادہ منفی تھی لیکن باہمی تعاون نے بتدریج سے ایک نئی شکل دی۔

 

ایلیا کا کہنا ہے کہ ”اسکرین پر بچوں کے جنسی استحصال جیسا موضوع حساسیت کا متقاضی ہے، ہم نے اس چیز کو یقینی بنایا کہ یہ تفریح یا اس چیزکیلئے محرک نہیں ہے”۔

 

وہ یقین رکھتی ہیں کہ پاکستان ڈراما انڈسٹری میں تجرباتی کام کرنے کے مواقع میسرنہیں۔ عزا کا کہنا ہے کہ بنانے والے زیادہ ترگھریلومعالات اورلو اسٹوری جیسا مواد ہی پروڈیوس کرتے ہیں، میرا خیال ہے کہ موجودہ کانٹینٹ بہت محفوظ ہے۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پاکستان کا وہ شہر جہاں یکم فروری کو کورونا ویکسین پہنچ جائے گی

سوشل میڈیارُولزکیخلاف درخواست،وزارت قانون اورپی ٹی اے کو نوٹس

سوشل میڈیارُولزکیخلاف درخواست،وزارت قانون اورپی ٹی اے کو نوٹس