in

200 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے شخص کی کہانی جب متاثرہ خواتین نے مل کر چھریوں سے اس پر حملہ کردیا لاش کا کیا حشر ہوا؟

200 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے شخص کی کہانی جب متاثرہ خواتین نے مل کر چھریوں سے اس پر حملہ کردیا لاش کا کیا حشر ہوا؟

200 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے شخص کی کہانی، جب متاثرہ خواتین …

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ 2018ء کے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں ہر 15منٹ بعد ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی رپورٹ ہوتی تھی۔ اسی بھارت میں 2004ء میں ایک درندے کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی 200کے لگ بھگ خواتین نے اسے عدالت کے باہر انتہائی بھیانک انجام سے دوچار کر دیا تھا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اس درندے کا نام اکو یادو تھا جس نے ایک دہائی کے عرصے میں بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ناگ پورمیں واقع کاستربا نگر نامی کچی بستی کی رہائشی 200سے زائد خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس نے پولیس کو رشوت دے کر اپنے ساتھ ملائے رکھا، جو اس کے جرائم پر پردہ ڈالتی۔ پولیس والے الٹا شکایت لے کر جانے والی خواتین کو فاحشہ اور طوائف جیسی گالیوں سے نواز کر تھانے سے بھگا دیتے۔کئی خواتین جب اکو یادو کے خلاف جنسی زیادتی کی شکایت درج کرانے گئیں تو انہیں پولیس والوں نے بھی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔

بالآخر بات میڈیا میں آنے پر دباؤ آیا اور پولیس نے اکو یادو کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کر دیا مگر اس کے خلاف اتنا کمزور مقدمہ بنایا گیا کہ اس کی ضمانت ہو جانے کا غالب امکان تھا۔ اکو یادو کو جب ناگ پور ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیشی کے لیے لایا جاتا تو اس کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین عدالت کے باہر جمع ہوتیں۔ اکویادو کو اپنی رہائی کا اس قدر یقین تھا کہ وہ پیشی پر آتے ہوئے بھی ان خواتین کو تضحیک کا نشانہ بناتا تھا۔ ایک بار اس نے وہاں موجود ایک عورت کو طوائف کہا اور دھمکی دی کہ وہ اسے دوبارہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے گا۔ اس پر اس خاتون کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے کہا کہ ”اب  تم زندہ رہو گے یا میں۔“یہ کہہ کر خاتون نے اکویادو پر حملہ کر دیا۔ 

یہ دیکھ کر دیگر 200کے لگ بھگ خواتین بھی اکویادو پر حملہ آور ہو گئیں اور اکو یادو کی حمایتی پولیس بے بس ہو گئی۔ خواتین میں سے بعض کے پاس چھریاں اور دیگر اوزار بھی تھے جن سے انہوں نے اکویادو کے چیتھڑے اڑا دیئے۔ یہ واقعہ 13اگست 2004ء کو پیش آیا تھا۔ خواتین نے اکویادو کی موت واقع ہو جانے کے بعد بھی 15منٹ تک اس کی لاش پر چھریوں کے وار جاری رکھے اور پھر سب نے مل کر پولیس سے کہا ”آؤ، ہم سب گرفتاری کے لیے تیار ہیں۔“ جب پولیس اکویادو کے قتل کے الزام میں کچھ خواتین کو گرفتار کرنے کچی بستی گئی تو پوری بستی کی خواتین باہر نکل آئیں اور ہر خاتون کہنے لگی کہ اکویادو کو اس نے قتل کیا ہے، اسے گرفتار کیا جائے۔واضح رہے کہ ملزم نے اتنی تعداد میں خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے علاوہ 3قتل بھی کر رکھے تھے اور وہ اغواء کی کئی وارداتوں میں بھی ملوث تھا۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹسجرم و انصاف





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اسلام آباد یونائیٹڈ نے نیا ریکارڈ قائم کردیا

اسلام آباد یونائیٹڈ نے نیا ریکارڈ قائم کردیا

بلوچستان حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 25فیصد بڑھانے کافیصلہ

بلوچستان حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 25فیصد بڑھانے کافیصلہ