in

معاشی آزادی پاکستان کے دیہی علاقوں کی خواتین کیلئے نئی امید

معاشی آزادی پاکستان کے دیہی علاقوں کی خواتین کیلئے نئی امید

معاشی آزادی، پاکستان کے دیہی علاقوں کی خواتین کیلئے نئی امید

 جب کورونا کی وباءپھیلی اور شریفاں بی بی کے علاقے میں لاک ڈاؤن ہوا،ان کی چھوٹی دکان مقامی آبادی کو ضروری اشیاءکی فراہمی کےلئے کھلی رہی۔انہوںنے انتہائی فخر کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ”میں اپنے پڑوسیوں کو سہولت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کے اخراجات اٹھانے میں مدد کے بھی قابل تھی ۔“

شریفاں نیسلے بی آئی ایس پی رورل وومین سیلز پروگرام کی15ہزار سے زائد بینیفشریز میں سے ایک ہیں،جو کہ سال2017میں پاکستان کے دیہی معاشرے کی انتہائی پسماندہ ترین خواتین کو زریعہ معاش کے مواقعوں کی فراہمی کےلئے شروع کیا گیا تھا۔

پاکستان کے دیہی علاقوں میں خواتین کی زندگی :

پاکستان کے دیہی علاقوں میں ساڑھے چھ کروڑ خواتین رہ رہی ہیں۔روایات بتاتی ہیں کہ ان خواتین کی اکثریت خاندانی کھیتی باڑی ،گلہ بانی اور ماہی پروری کے کاروبار میںیا تو بناءاجرت یا پھر کم اجرت پر کام کرتی ہیں۔

چونکہ نیسلے پہلے ہی مشرقی افریقہ میںکافی فارمز کے ساتھ کام کرکے پہلے ہی سیکھ چکا ہے کہ معاشی خودمختاری ،سماجی و معاشی طور پر با اختیار بننے کےلئے ضروری ہے ۔مالی آذادی کا فائدہ صرف ان خواتین کو خود ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کا فائد ہ پوری برادری،ان کے خاندان اور آنے والی نسلوں کو بھی پہنچتا ہے۔

بی آئی ایس پی اور احساس پروگرام کی اہمیت: 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام(بی آئی ایس پی) اب احساس پروگرام کا حصہ ہے ،جس کا مقصد پاکستان میں پسماندہ افراد کو نقد رقم کی فراہمی ہے ۔ملک میں سب سے بڑے سوشل سیفٹی نیٹ پروگرام کی حیثیت سے بی آئی ایس پی سہہ ماہی بنیادوں پر (لگ بھگ6ہزار روپے یا 37امریکی ڈالرز)کی مالی اعانت کے ذریعے اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی عورت اس پوزیشن میں نہ رہے کہ وہ اپنی ضروریات پوری نہ کرسکے۔

1500خواتین کی رورل وومین سیلز پروگرام کے تحت معاونت کی گئی :

اس کی بنیاد پر بی آئی ایس پی نے نیسلے کے ساتھ شراکت کرتے ہوئے اس پروگرام سے مستفید ہونے والی خواتین کو غربت سے نکالنے میں مدد کی اوران خواتین کو آزادانہ اور با عزت طریقے سے آمدن کے مواقع فراہم کئے ۔نیسلے پاکستان نے اخوت فاؤنڈیشن کے ساتھ بھی خواتین کو چھوٹے پیمانے کے کاروباروں کےلئے سود سے پاک قرضوں کی فراہمی کےلئے شراکت کی ہوئی ہے ۔اس پروگرام کی بدولت خواتین اپنے آبائی علاقوں میں خود مختار ہو کر بطور سیلز ایجنٹس اور شاپ کیپرز اپنی برادری اور خاندانوں کی خدمت کررہی ہیں۔

تبدیلی کا سفر:

”مصطفی آباد کی 36سالہ شہناز کا کہنا ہے کہ جب میںنے دو سال قبل شاپ کیپرز کی حیثیت سے کام کرنے کے خیال کا اظہار کیا تو مجھے میرے شوہر اور خاندان کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا،تاہم میںنے ہمت نہ ہاری کیونکہ میں اپنے بچوں کو ایک بہتر طرز زندگی دینا چاہتی تھی۔“نیسلے کی خواتین نمائندوں نے خواتین کی ان کی برادریوں میں اعتماد کے قیام کے حوالے سے اس امید پر وقت صرف کیاکہ شاید ان میں سے چند خواتین یہ دلیرانہ قدم اٹھانے پر تیار ہوں اور دیگر ان کی تقلید کرسکیں۔

شہناز نے انتہائی فخر سے بتایا کہ ”آج میرے بچے اسکول جاتے ہیں اور اچھا کھاتے ہیں جبکہ سب سے بڑھکر یہ کہ میرے شوہر مجھ سے انتہائی خوش ہیں۔“

اس پروگرام میں نئے آنی والوں کو سیلز کی تربیت فراہم کی جاتی ہے اور دکان و مال کی خریداری کےلئے سود سے پاک قرضوں کی پیشکش کی جاتی ہے ۔نئے مال کی خریداری کی صورت میں انہیں شہر جانے کے بجائے محض کمپنی کے نمائندے کو کال کرنا ہوتی ہے جو ان کے دروازے تک مال پہنچا دیتے ہیں۔اس وقت سیلز ایجنٹس پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے 23اضلاع میں سرگرم ہیں۔

نیسلے پاکستان کا صحت مند خواتین پروگرام ہر نئے دیہی سیلز ایجنٹ کےلئے غذایت سے آگاہی سے متعلق سیشنز کا بھی اہتمام کرتا ہے ۔اچھی اور صحت مند غذا کی اہمیت سے متعلق معلومات کے حامل اور بجٹ کے اندر صحت مند اور غذایت سے بھرپور کھانے پکانے کے آئیڈیاز لئے یہ سیلز ایجنٹس کمیو نیٹیز پر صحت مندانہ اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

   ہمارے گاؤں میں خواتین کے کام کرنے کا رجحان نہ تھا، شگفتہ شاپ کیپر 

کوٹ بیلہ گاؤں کی رہائشی 37سالہ رضیہ کا کہنا ہے کہ ”میں نے حفظان صحت سے متعلق کافی سیکھا ہے ۔اس نے مجھے بھی اپنے بچوں کو ٹھوس غذا کی فراہمی کے قابل بنایا ہے اور اب میںاپنے گھر کو بھی دھول مٹی سے پاک رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔میں دیگر خواتین پر بھی زور دیتی ہوںکہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں تا کہ ان کے بچے بیمار نہ پڑیں۔“

بڑھتے ہوئے اثرات :

آنے والے چند برسوں میں منصوبہ ہے کہ بطور سیلز ایجنٹس بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں کی تعداد کو 5ہزار تک بڑھایا جاسکے ۔

پنڈی بھٹیاں کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں کی شاپ کیپر 35سالہ شگفتہ کا کہنا ہے کہ ”ہمارے گاوں میں خواتین کے کام کرنے کا کوئی رجحان نہ تھا ،لیکن وہ دن بھی تھے جب میرے گھر والوں کو ایک وقت کا کھانا میسر تھا،میںاپنے بچوں کو اسکول جانے کے بجائے گلیوں میں وقت گزارتا دیکھ کر انتہائی تکلیف محسوس کرتی تھی،تاہم اب میرے تمام بچے اسکول جاتے ہیںاور ہم اچھا کھاتے ہیں۔ مجھے اس بات پر انتہائی فخر ہے کہ میںاپنے گاوں کی پہلی رورل سیلز ایجنٹ ہوں اور اس نے دیگر خواتین کو بھی غربت سے نکلنے کےلئے کام کی ترغیب دی ہے ۔ 

نیسلے کا مقصد اس پروگرام کو مزید بڑھانا اور اس پروگرام کے تحت بطور سیلز ایجنٹس زیادہ سے زیادہ بینیشفریز کی شمولیت ہے ۔آنے والے چند برسوں میں اندازہ ہے کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی 5ہزار کے لگ بھگ خواتین اس پروگرام کا حصہ ہوں گی۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے پائیدار مقاصد 5(صنفی مساوات)،8(مہذب کام اور معاشی ترقی)اور 17(مقاصد کےلئے شراکت داری) کے مطابق اٹھایا گیا ہے ۔

ویڈیو دیکھیں:

بشکریہ جاوید چوہدری۔

مزید :

اہم خبریںقومیبزنس





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

چئیرمین ایچ ای سی کی برطرفی انسانی اور قانونی حقوق کا مسئلہ ہے،طارق بنوری

چئیرمین ایچ ای سی کی برطرفی انسانی اور قانونی حقوق کا مسئلہ ہے،طارق بنوری

مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے، وزیراعظم

مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے، وزیراعظم