in

کھالیں جمع کرنے میں لوگوں کی دلچسپی کم ہوگی

کھالیں جمع کرنے میں لوگوں کی دلچسپی کم ہوگی

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ترجمان مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق دینی مدارس اجتماعی قربانی کے انتظامات کے ذریعے شہریوں کو سہولیات فراہم کرتے تھے جس کے ذریعے کھالیں بھی حاصل ہوتی تھیں، اس کے علاوہ بھی دینی مدارس کے رضاکار کھالیں جمع کرتے تھے جس سے مدارس کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی تھی لیکن گزشتہ چند سالوں سے کھالوں کی قیمتوں میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گائے کی کھال جو پانچ، چھ سال قبل 3500 تا 4 ہزار روپے میں بکتی تھی کم ہوتے ہوئے گزشتہ سال 500 اور 600 روپے کی سطح پر آگئی جب کہ بکرے کی کھال 300 روپے میں خریدی جارہی تھی جب کہ پنجاب اور ملک کے کئی حصوں میں اس سے بھی کم نرخوں پر کھالیں خریدی گئیں۔ یہ نرخ اتنے کم ہیں کہ ٹرانسپورٹیشن اور رضاکاروں کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے دینی مدارس کی کھالوں میں دلچسپی کم ہورہی ہے۔

طلحہ رحمانی کے مطابق گزشتہ سال تنظیمات مدارس کے پلیٹ فارم سے کھالوں کے نرخوں میں کمی کے خلاف پریس کانفرنس بھی کی گئی تھی اور سخت احتجاج بھی کیا گیا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ کھالوں کے نرخ ایک سازش کے تحت کم کئے گئے ہیں جس کا مقصد دینی مدارس کی مالی مدد کو روکنا ہے لیکن ہمارے احتجاج کے باجود نرخ بدستور کم ہی ہیں۔

الخدمت کراچی کے ڈئریکٹر قاضی سید صدرالدین کا بھی کہنا ہے کہ اجتماعی قربانی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ شہری مہنگائی کی وجہ سے فلاحی اداروں اور دینی مدارس کے ذریعے اجتماعی قربانی کو ترجیح دے رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں حاصل ہونے والی کھالوں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے لیکن قیمتوں میں کمی کی وجہ سے انہیں خاطر خواہ فائدہ نہیں ہورہا۔

قاضی سید صدرالدین کے مطابق الخدمت کے رضاکار بلامعاوضہ کھالیں جمع کرنے کی خدمات انجام دیتے ہیں، اس وجہ سے دیگر اداروں کے مقابلے میں ہماری لاگت کم ہے لیکن پھر بھی کم قیمتوں کی وجہ سے اتنے فنڈز جمع نہیں ہوپاتے جس کی وجہ سے انہیں فلاحی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کے مرکزی وائس چیئرمین عبدالسلام کا کھالوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے حوالے سے کہنا ہے کہ کپڑے، مصنوعی کھال اور دیگر اشیاء سے تیار کردہ جوتے اور گرم ملبوسات لیدر مصنوعات کی جگہ لے رہے ہیں جس کی وجہ سے لیدر مصنوعات کی طلب میں کمی دیکھی جارہی ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ چند سالوں کے دوران کھالوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے تاہم کرونا وبا اور لاک ڈاون کے بعد یورپ اور امریکا کی جانب سے ڈیمانڈ بڑھنے کی توقع ہے جس کے نتیجے میں گائے کی کھالوں کی قیمتوں میں قدرے بہتری آسکتی ہے اور گائے کی کھال 1500 روپے ہونے کی توقع ہے۔

وفاقی وزارت کامرس کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران خام لیدر کی برآمدات میں 16 فی صد کمی آئی ہے، جب کہ معروف صنعت کار ایس ایم منیر نے بھی گزشتہ دنوں کراچی میں اپنی لیدر فیکٹری بند کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ لاگت بڑھنے اور انکم کم ہونے کی وجہ سے فیکٹری بند کرنے پر مجبور ہوا ہوں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

معروف صحافی عارف نظامی انتقال کرگئے

معروف صحافی عارف نظامی انتقال کرگئے

کورونا ویکسین کا سسٹم انتہائی ناقص بختاور بھٹو نے عوام سے بڑی اپیل کر دی

کورونا ویکسین کا سسٹم انتہائی ناقص بختاور بھٹو نے عوام سے بڑی اپیل کر دی