in

پرائز بانڈز کے نمبروں پرسٹےکا متبادل طریقہ ڈھونڈ نکالا گیا

Gambling

اگلے مہینوں میں سٹہ باز تھائی لینڈ کے علاوہ دبئی، امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی لاٹریوں کو استعمال کرنے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے پرائز بانڈز بند کیے جا رہے ہیں اور اب تک 40 ہزار، 25 ہزار، 15 ہزار اور ساڑھے 7ہزار روپے کی مالیت کے پرائز بانڈز کی لین دین روکی جا چکی ہے جب کہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں سال کے آخر تک بقیہ بانڈز یعنی 1500 روپے، 750 روپے، 100 روپے، 200 روپے اور مالیت کے بانڈز بھی بند کر دیے جائیں گے۔

پرائز بانڈز کی بندش کے اعلان کے بعد انعامات کی غرض سے بانڈز رکھنے والوں سے زیادہ ان بانڈز کی قرعہ اندازی کے نام پربانڈ پرچی کا ماہانہ اربوں روپے کا غیر قانونی دھندہ کرنے والے پریشان ہوگئے تھے کیوںکہ وہ انہی بانڈز کے نمبرز پر سٹہ کھیلتے تھے تاہم سٹہ بازوں نے اپنا دھندہ بچانے کی غرض سے بالآخر اس کا حل ڈھونڈ نکالا اور یکم جولائی کو 15 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی نہ ہونے پر انہوں نے تھائی لینڈ کی ایک لاٹری کو بنیاد بنا کر اسی انداز میں نمبر کاٹے اور قرعہ اندازی کے نمبرز پر اسی طرح سٹہ کھلایا جس طرح وہ پرائز بانڈز کے نمبر کو استعمال کرتے تھے۔

بانڈز پرچی کے دھندے سے منسک افراد کے مطابق جو بانڈز ابھی ختم نہیں ہوئے اور جن کی قرعہ اندازی ہونی ہے ان بانڈز پر تو جوا کھیلا جائے گا لیکن جن تاریخوں میں بانڈز کی قرعہ اندازی نہیں ہوگی ان میں تھائی لینڈ کی لاٹری کو استعمال کیا جائے گا۔ تھائی لینڈ کی لاٹری کا جولائی میں کامیاب استعمال کیا گیا لیکن پھر بھی متبادل کے طور پر دبئی، برطانیہ اور امریکہ کی آن لائن لاٹریوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

بانڈز پرچی کا دھندہ کس طرح ہوتا ہے؟

پاکستان میں مختلف مالیت کے پرائز بانڈز کی کئی عشروں سے لین دین ہورہی ہے انعامات نکلنے کی امید پر شہری پرائز بانڈز خریدتے رہے ہیں لیکن اس پورے قانونی عمل کے ساتھ ساتھ شروع سے ہی ایک غیر قانونی دھندہ بھی چلتا آرہا ہے جس میں پرائز بانڈز کی خرید وفروخت کے بجائے اس کے نمبرز کو استعمال کرکے ان نمبرز پر سٹہ کھیلا جاتا ہے۔ یہ جوا کھیلنے والا بکی کو نمبر لکھواتا ہے اگر اس کا لکھوایا ہوا نمبر قرعہ اندازی میں آنے والے نمبرز سے میچ کرتا ہے تو اسے اس کی لگائی گئی رقم کے تناسب سے رقم دی جاتی ہے۔

سٹے میں استعمال ہونے والی رقم اور انعامات کا پرائز بانڈز کے اس سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ صرف ان نمبر ز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پرائز بانڈ مارکیٹ کے ایک ڈیلر کے مطابق شروع میں یہ دھندہ کھلے عام چلتا تھا لیکن سن 1999میں اس پر پابندی لگا دی گئی جس کے بعد چوری چھپے سارا کام ہوتا ہے۔ تقریباً ہر علاقے میں ہی یہ نیٹ ورک موجود ہے جس میں بروکرز بکنگ کرتے ہیں اور وہی بروکرز جیتنے کی صورت میں زائد رقم دینے کے بھی پابند ہوتے ہیں۔ غیر قانونی ہونے کی وجہ سے پولیس کا کام ہے کہ وہ اس جوئے کو روکے لیکن مبینہ طور پر پولیس کی سرپرستی میں ہی یہ سارا دھندا ہو رہا ہے۔

محمدی کالونی (مچھر کالونی) کے ایک سٹہ کھیلنے والے 28سالہ جوان نے بتایا کہ ہر علاقے میں بانڈز پرچی والے بروکرز ہوتے ہیں جن کو نمبرز لکھوائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی وہ جتنی رقم لگانی ہے اس کی پرچی دے دیتے ہیں، بنیادی طور پر پرائز بانڈ کے شروع کے 4 نمبروں پر سٹہ کھیلا جاتا ہے جس میں پہلے 2 نمبرز کو آکڑا، پہلے تین نمبرز کو ٹنڈیلہ اور 4 نمبرز کو فور کاسٹ کہتے ہیں جب کہ درمیانے دو نمبروں کو بیک آکڑا کہا جاتا ہے۔

قرعہ اندازی میں 100 روپے کا آکڑا کھیلنے والے کا قرعہ اندازی میں نمبر میچ ہونے کی صورت میں 8 ہزار روپے اور ٹنڈیلہ کا نمبرز میچ ہونے کی صورت میں 63 ہزار روپے اور فورکاسٹ کا نمبر میچ ہونے پر چار لاکھ روپے دیے جاتے ہیں جبکہ 100روپے کا بیک آکڑہ میچ ہونے کی صورت میں بھی 8 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ورلڈ بینک نے پاکستان کا 400 ملین ڈالر قرض کا اجرا روک دیا مگر کیوں؟ وجہ بھی سامنے آگئی

ورلڈ بینک نے پاکستان کا 400 ملین ڈالر قرض کا اجرا روک دیا مگر کیوں؟ وجہ بھی سامنے آگئی

طالبان، افغان حکومت میں سیاسی حل پر اتفاق ہوگیا

طالبان، افغان حکومت میں سیاسی حل پر اتفاق ہوگیا