in

پاکستان رواں ماہ ازبکستان کیساتھ کن تجارتی معاہدوں پر دستخط کرے گا ؟مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد نے خوشخبری سنا دی

پاکستان رواں ماہ ازبکستان کیساتھ کن تجارتی معاہدوں پر دستخط کرے گا ؟مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد نے خوشخبری سنا دی

پاکستان رواں ماہ ازبکستان کیساتھ کن تجارتی معاہدوں پر دستخط کرے گا ؟مشیر …

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مالی سال 2021-22ءکے لئے 35 ارب امریکی ڈالر کا غیر معمولی برآمدی ہدف حاصل کرنے کے لئے وسطی ایشیا میں 90 بلین امریکی ڈالر کی برآمدی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لئے ماہ جولائی میں ازبکستان کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دستخط کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق عبدالرزاق داؤد نے صحافیوں کے وفد سے گفتگو کے دوران بتایا کہ 2021-22ء کے مالی سال میں پاکستان نے سامان اور خدمات کی برآمدات کو 35 ارب ڈالر مقرر کیا ہے، وسطی ایشیا رابطے کے مقصد کے لئے وزیر اعظم عمران خان 13 جولائی 2021 کو ازبکستان روانہ ہو رہے ہیں، اپنے تین روزہ دورے (13 سے 15 جولائی) کے دوران ، پاکستان اور ازبکستان ٹرانزٹ اور ترجیحی تجارت کے معاہدوں پر دستخط کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک گوادر اور تاشقند میں گودام کی سہولیات کے قیام کے لئے دوسرے علاقائی ممالک کو سامان کی نقل و حمل میں ایک دوسرے کی مدد کے لئے مختص جگہ مختص کرنے پر متفق ہوگئے ہیں،ہم نے ٹی آئی آر کنونشن کے تحت سامان کی نقل و حمل کا منصوبہ بنایا ہے کیونکہ ازبکستان سے پہلا ٹرک 48 گھنٹوں میں ٹی آئی آر کنونشن کے تحت پاکستان پہنچا،حکومت ملک کے خستہ حال لاجسٹک نیٹ ورک کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے ٹرانسپورٹرز کو قرضوں کی پیش کش پر غور کر رہی ہے، حکومت نے وفاقی بجٹ 2021-22ء میں مصنوعات کی برآمد کو مسابقتی بنا کر 4000 سے زیادہ خام مال کے ٹیرف لائنوں کو جو کہ درآمد شدہ خام مال کا 42 فیصد ہے، ٹیرف ریشنلائزیشن کےلئےفوکس ایریافعال دواسازی کی اجزاء ، پولٹری ، انجینئرنگ اور ٹیکسٹائل تھا۔

عبدالرزاق داؤدنے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں خام مال ، آئرن اور سٹیل ، زرعی مصنوعات کی پیکیجنگ کے نرخوں کو بھی معقول بنایا جائے گا،ہم جانتے ہیں کہ برآمدات کا نیا ہدف کا حصول مشکل کام ہوگا کیونکہ کوویڈ کی صورتحال کے بعد دنیا کھل رہی ہے اور ہر شخص برآمدی منڈی میں داخل ہونے جا رہا ہے لیکن ہر ایک کو جدوجہدکرنی چاہئے اور اسے حصول سازی بنانے کی کوشش کرنی چاہئے،اگلے مالی سال میں ٹیکسٹائل کے شعبوں کا حصہ بڑھ کر 20 ارب ڈالر ہوجائے گا جبکہ گذشتہ سال کی برآمدات کے مقابلہ میں 15.5 بلین ڈالر کا اندراج ہوا تھا،دوسری طرف آئی ٹی کی برآمدات رواں مالی سال کے اختتام تک پہلی بار 2 ارب ڈالر کے ہندسے کو عبور کرگئیں اور اگلے مالی سال میں تقریبا 50 فیصد تک اضافے کا امکان ہے،موجودہ حکومت کی ان پالیسیوں کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافہ ایک بہت بڑی چھلانگ ہے جس نے ٹیکسٹائل کے شعبے کے اعتماد کو بڑھاوا دیا ہے جس میں تیزی سے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی واپسی کے ذریعہ مراعات اور مدد بھی شامل ہے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ  کووڈ۔19 کی روک تھام کے دوران آئی ٹی سیکٹر فعال رہا جس کے نتیجے میں اس شعبے کی خدمات کی برآمدات میں اضافہ ہوا،دنیا بھر میں وبائی صورتحال پاکستان کے کچھ سیکٹروں کی برآمد کے لئے سازگار ہوگئی ہے  لیکن کاروبار کے دوبارہ کھلنے پر یہ رجحان ایک جیسے نہیں ہوگا اور مقابلہ مختلف شعبوں میں مستحکم ہوجاتا ہے”تاہم ، ہمیں امید ہے کہ ہمارے برآمد کنندگان سامنے سے چیلنج کا مقابلہ کریں گے اور آنے والے مہینوں میں ترقی کی رفتار کو برقرار رکھیں گے،وزیر اعظم عمران خان رکاوٹوں کو دور کرکے پاکستان کی برآمدات کو فروغ دینے کے لئے وسیع پیمانے پر کام کر رہے ہیں جبکہ ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کو راغب کرنے کے لئے نئے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں اور برآمد کنندگان کو سہولیات دینے سمیت ان کے حقیقی تحفظات کو دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔

مزید :

بزنس



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Afghan Taliban

افغانستان میں افغان طالبان کا مزید 13اضلاع پر قبضہ

میرا پیار کرن نوں جی کردا ہانیہ عامر نے انگریزی میں یہ بات کہی تو پاکستانیوں نے آگے سے ایسا جواب دے دیا کہ ہنسی نہ رکے

میرا پیار کرن نوں جی کردا ہانیہ عامر نے انگریزی میں یہ بات کہی تو پاکستانیوں نے آگے سے ایسا جواب دے دیا کہ ہنسی نہ رکے