in

سوئی سدرن گیس کے بلوں میں جون میں کیوں اضافہ ہوا

سوئی سدرن گیس کے بلوں میں جون میں کیوں اضافہ ہوا

تین چیزیں یقینی ہوتی ہیں جن میں موت، ٹیکس اور گیس کا بل جو 220 روپے سے 250 روپے تک کے درمیان ہر ماہ آتا ہے۔

اس ماہ، مجھے گیس کا بل 390 روپے کا بھیجا گیا۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ بل میں درج تھا کہ رقم میں اضافہ پچھلے بقایا جات کی مد میں کیا گیا ہے۔

جب میں نے بل کا جائزہ لیا تو مجھے بل میں دائیں طرف کے کالم میں بریک ڈاؤن چارجز میں اس کی وجہ نظر آئی۔

یہاں لکھی ہوئی ایک سطر نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ بل میں درج تھا کہ ستمبر سے میٹر رینٹ میں 20 روپے اضافہ کردیا گیا ہے۔ اندازہ ہوا کہ میٹر رینٹ بڑھا دیا گیا ہے۔

سوئی سدرن کی ویب سائٹ پر میٹر رینٹ کچھ اس طرح بتایا گیا ہے :۔

صارف کی جائیداد کے احاطے میں نصب گیس میٹر ایس ایس جی سی کی ملکیت ہے۔ہر ماہ 20 روپے نارمل ڈومیسٹک میٹر رینٹ کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں۔ یہ میٹرز جی فور اور جی 1.6 ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ میٹر رینٹ 20 روپے سے بڑھا کر 40 روپے کردیا گیا ہے۔

گیس کے بل میں درج ہے کہ صارف کو پچھلے بقایاجات ادا کرنا ہونگے جس کا مطلب یہ ہوا کہ میٹر رینٹ کی مد میں بڑھائی جانے والی رقم دینا ہوگی۔ سوئی سدرن کے ترجمان صفدر حسین سے جب یہ پوچھا گیا کہ اچانک میٹر رینٹ میں کیوں اضافہ کیا گیا اور اس حوالے سے پہلے کیوں نہیں آگاہ کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ای سی سی نے ستمبر 2020 میں میٹر رینٹ 20 روپے سے بڑھا کر 40 روپے تک کرنے کی منظوری دی تھی۔ ان میں سوئی سدرن اور سوئی ناردن کمپنی  کے ڈومیسٹک صارفین شامل تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت یہ رقم کرونا وائرس کے باعث درپیش مشکلات کی وجہ سے نہیں بڑھا گئی تھی تاکہ عوام پر اس کا مزید بوجھ نہ پڑے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کینیڈا:گھرمیں آگ لگنےسے4بچوں سمیت7پاکستانی جاں بحق

کینیڈا:گھرمیں آگ لگنےسے4بچوں سمیت7پاکستانی جاں بحق

سعید غنی اور نیب کے درمیان مقابلہ جاری پی پی رہنما کا ضمانت سے انکار پیر کواحتساب بیورو میں پیش ہونے کا اعلان

سعید غنی اور نیب کے درمیان مقابلہ جاری پی پی رہنما کا ضمانت سے انکار پیر کواحتساب بیورو میں پیش ہونے کا اعلان