in

پگڑی سسٹم والی جائیدادوں پر تنازعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

پگڑی سسٹم والی جائیدادوں پر تنازعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

جائیدادوں میں ”پگڑی سسٹم“ کے تحت لین دین کرنے والوں کے مابین باہمی تنازعات میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ اس طریقۂ کار کو قانونی تحفظ نہ ہونے کی صورت میں فریقین عدالتوں کی بجائے پنچایت کا سہارہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

جائیدادوں میں ”پگڑی سسٹم“ کے تحت لین دین کرنے والوں کے مابین باہمی تنازعات میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ اس طریقۂ کار کو قانونی تحفظ نہ ہونے کی صورت میں فریقین عدالتوں کی بجائے پنچایت کا سہارہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

پگڑی سسٹم سے متعلق افراد کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا کہ پگڑی سسٹم کے تحت زیر استعمال جائیدادوں کی اتنی قیمت اور اہمیت نہیں تھی جس کی وجہ سے فریقین سابقہ معاہدوں پر ہی عمل پیرا تھے تاہم اب مرکز شہر میں دکانوں، فلیٹوں اور گوداموں کی قیمتیں کروڑوں روپوں تک پہنچ چکی ہیں اور بلڈر سے اچھی آفرز ملنے کی وجہ سے مالکان اپنی پراپرٹیز خالی کرانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل اتنا آسان نہیں کیونکہ پراپرٹی کئی لوگوں کو آگے منتقل ہوجاتی ہے اور پگڑی کی مد میں رقم بھی کئی گنا بڑھ چکی ہیں، اس کے علاوہ دکانوں میں کئی عشروں سے جاری کاروباری ساکھ کی وجہ سے ویلیو بڑھ چکی ہے، جس کی وجہ سے پگڑی پر بیٹھے افراد خالی کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے اور اگر تیار ہو بھی جائیں تو رقم پر اتفاق نہ ہونے کے سبب اختلافات جنم لیتے ہیں۔

پگڑی سسٹم کیا ہے؟

پگڑی سسٹم قیام پاکستان سے پہلے سے چلا آرہا ہے جو کراچی اور حیدرآباد سمیت کئی شہروں میں اب بھی رائج ہے، یہ نظام ملکیت اور کرایہ داری کا ایک درمیانی معاہدہ ہوتا ہے، جس کے تحت پراپرٹی کا مالک کسی فرد سے پراپرٹی کی کل مالیت کا 60 فیصد یا اس سے زائد رقم وصول کرکے اپنی پراپرٹی اس کے حوالے کردیتا ہے اور ماہانہ معمولی کرایہ بھی وصول کرتا ہے۔ یہ کرایہ شہر کے مختلف علاقوں میں کم سے کم 100 روپے اور زیادہ سے زیادہ 5 ہزار روپے ہے۔

تاہم اس معاہدے کے باوجود پراپرٹی کا مالک تبدیل نہیں ہوتا جبکہ کرایہ دار کسی اور کو بھی پراپرٹی زیادہ قیمت اور کرائے پر دے سکتا ہے لیکن اضافی رقم کا 10 فیصد مالک کو دینے کا پابند ہوتا ہے۔ دوسری جانب مالک اپنی پراپرٹی کو اسی کرائے دار کے علم میں لاکر کسی کو فروخت کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں کرائے دار وہی رہتا ہے مالک تبدیل ہوجاتا ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کرایہ داری کے معاہدے کے برعکس جس میں ایڈوانس کی رقم واپس دیکر کرایہ دار سے پراپرٹی خالی کروالی جاتی ہے پگڑی سسٹم میں پراپرٹی کی قیمت کے لحاظ سے نصف سے بھی زیادہ رقم وصولی کی وجہ سے مالک مکان کیلئے پراپرٹی کو خالی کرانا آسان نہیں ہوتا اور اس نظام میں کرایہ داری کے عام اصولوں کے مطابق معاملات طے نہیں ہوتے جبکہ دوسری طرف ملکیت اور شراکت داری کے معاہدے بھی نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے اس سسٹم کے معاملات مختلف ہی ہوتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اس میں اصلاحات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

کراچی میں کھارادر، بولٹن مارکیٹ، جوڑیا بازار، آرام باغ، جامع کلاتھ، صدر، زینب مارکیٹ اور جمشید ٹاؤن سمیت کئی علاقوں میں کئی عشروں سے سینکڑوں دکانیں، فلیٹس اور گودام پگڑی سسٹم کے تحت چلے آرہے ہیں، جن میں مالکان کی ملکیت بھی دوسری اور تیسری نسل تک منتقل ہوچکی ہے، جب کہ پگڑی پر بیٹھے افراد بھی آگے کئی افراد کو اپنی حیثیت منتقل کرچکے ہیں۔

پگڑی کی دکانوں میں کاروبار کرنیوالے تاجر بھی ان تنازعات کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں اور کئی تاجر اپنی برادریوں کی سطح پر قائم پنچایت میں ان تنازعات کا سامنا کرتے ہیں جبکہ عدالتوں میں بھی یہ معاملات لائے جاتے ہیں تاہم کرایہ داری قوانین کے تحت ایسے کیسز خارج کردیئے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید سندھ رینٹ پری میسز آرڈیننس 1979ء میں ترمیم کرانے کی کوشش کررہے ہیں، جس کا مقصد پگڑی پر بیٹھے افراد کو رینٹ قوانین سے نکالنا ہے تاکہ انہیں الگ حیثیت حاصل ہوسکے اور اس کے مطابق ان کے معاملات عدالتوں میں سنے جاسکیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ڈیورنڈلائن عالمی سطح پر تسلیم شدہ بارڈر ہے،وزیرخارجہ

ڈیورنڈلائن عالمی سطح پر تسلیم شدہ بارڈر ہے،وزیرخارجہ

FSD child abuse

اسلامک یونیورسٹی میں طالبعلم کا گینگ ریپ