in

حکومت کی آٹو پالیسی اور میری گاڑی سکیم

حکومت کی آٹو پالیسی اور میری گاڑی سکیم

حکومت کی آٹو پالیسی اور میری گاڑی سکیم

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی بجٹ 2021-22 میں حکومت کی جانب سے آٹو پالیسی کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ آٹو سیکٹر ملکی ترقی اور قومی خزانے میں بہت بڑا حصہ ڈالتا ہے، اس شعبے سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے، پاکستان کی آٹو مارکیٹ بہت چھوٹی ہے مگر اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس شعبے کو ترقی دینے کیلئے 850 سی سی تک کی کاروں کے سی بی یو کو کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پہلے سے بننے والی گاڑیوں اور نئے ماڈل بنانے والوں کو ایڈوانس کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا جا رہا ہے اور ٹیرف سٹرکچر کو مناسب بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی وجہ سے متوسط طبقے کو اپنی ذاتی گاڑی خریدنے کا موقع ملے گا جس سے حکومت کی میری گاڑی سکیم کو کامیابی ملے گی۔ اس طرح چھوٹی گاڑیوں کی قیمت کم ہوگی اور بہت سے اہل وطن موٹرسائیکل کی بجائے کار کی سواری کے قابل ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کیلئے ایک سال تک کسٹم ڈیوٹی کم کی جارہی ہے جس سے ان ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسی طرح عالمی سطح پر موٹرسائیکل کے بدلتے رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے مقامی سطح پر تیار ہونے والی ہیوی موٹرسائیکلز اور ٹرک اور ٹریکٹر کی مخصوص اقسام پر عائد محصولات میں بھی مناسب کمی کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات سے آٹو سیکٹر میں انقلابی تبدیلیاں آنے کی امید ہے جو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ویژن اور وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کی انتھک محنت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

مزید :

بجٹبزنس





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کراچی: بلاول ہاؤس کے میڈیا سیل میں آگ لگ گئی

کراچی: بلاول ہاؤس کے میڈیا سیل میں آگ لگ گئی

ویڈیو: بينک سے رقم نکلوانے پر عائد ٹیکس ختم

ویڈیو: بينک سے رقم نکلوانے پر عائد ٹیکس ختم