in

پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام پر 38فیصد زیادہ خرچ کرینگے، وزیرخزانہ

پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام پر 38فیصد زیادہ خرچ کرینگے، وزیرخزانہ

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام پر 38 فیصد زیادہ رقم خرچ کرے گی، ہر سال ٹيکس ريونيو 20 فيصد بڑھانے کا ہدف ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام پر 38 فیصد زیادہ رقم خرچ کرے گی، ہر سال ٹيکس ريونيو 20 فيصد بڑھانے کا ہدف ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں وفاقی وزراء حماد اظہر اور خسرو بختیار کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سابقہ دور میں ملکی معیشت قرضہ لیکر بہتر دکھانے کی کوشش کی گئی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مصنوعی طریقے سے مستحکم رکھا گیا، ن ليگ کے غلط فيصلے سے معيشت کو 20 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو مجبوراً آئی ايم ايف کے پاس جانا پڑا، آئی ایم ایف کے پاس جانے سے اضافی ٹیرف لگانے پڑے، ن لیگ کی معاشی ٹیم ملک کو دیوالیہ پر لے آئی تھی، آئی ایم ایف پر واضح کردیا کہ غریبوں پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ کرونا وباء کے باوجود موجودہ حکومت شرح نمو 4 فيصد تک لائی، اگلے 2 سال میں ریونیو کو مزید بڑھانے کی کوشش کریں گے، ہر سال ٹيکس ريونيو 20 فيصد بڑھانے کا ہدف ہے، مزيد ٹيکس لگانا مقصد نہيں بلکہ ٹيکسوں کے دائرہ کار کو وسعت دينا ہے۔

شوکت ترین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے یکم جولائی 2021ء سے شروع ہونیوالے سال کیلئے ٹیکس محصولات کا ہدف 5 ہزار 829 ارب روپے مقرر کیا ہے جبکہ موجودہ حکومت کے اختتام تک اسے 7 ہزار ارب روپے تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

ایک اس کہ ’’وہ اس آمدنی کو کیسے اکٹھا کریں گے‘‘ کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کچھ سرکاری کاروباری اداروں کی نجکاری کرے گی، جو سابقہ حکومت نے نہیں کیا۔

بزنس رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ وہ اب زراعت، انڈسٹری، ایکسپورٹ سیکٹر اور آئی ٹی سیکٹر کو مراعات دیکر معاشی شرح نمو کو استحکام کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.4 فیصد اضافے کے بعد معاشی شرح نمو اس سال 3.9 فیصد رہی، اب حکومت کا ہدف آئندہ سال شرح نمو 5 فیصد اور اس کے بعد 6 فیصد تک لے جانا ہے۔

پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے کہا کہ ن ليگ کے دور ميں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بلند ترين سطح پر تھا، موجودہ حکومت میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس پر ہے، اپوزيشن کو موجودہ حکومت کی معاشی ترقی ہضم نہيں ہورہی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ڈیڑھ لاکھ روپے دو اور شادی کرو لڑکی کی دھمکی لڑکے نے آگے سے ایسا قدم اٹھالیا کہ روح کانپ اٹھے

ڈیڑھ لاکھ روپے دو اور شادی کرو لڑکی کی دھمکی لڑکے نے آگے سے ایسا قدم اٹھالیا کہ روح کانپ اٹھے

بلدیاتی انتخابات سے قبل سندھ میں حدبندیوں کیلئے کمیٹیاں قائم

بلدیاتی انتخابات سے قبل سندھ میں حدبندیوں کیلئے کمیٹیاں قائم