in

شرح سود 7 فیصد برقرار رکھے جانے کا امکان

شرح سود 7 فیصد برقرار رکھے جانے کا امکان

ریسرچ تجزیہ کار رضا جعفری کے مطابق کرونا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے سے عوام کو کرونا کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ تجزیہ کار شارون احمد کا  بھی کہنا تھا کہ کرونا کی حالیہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے شرح سود کی سطح برقرار رکھےجانے کی اُمید ہے۔ اسکے علاوہ رواں سال بےروزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، گزشتہ سال شرح 4 اعشاریہ 5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جو رواں سال بڑھ کر 8 اعشاریہ 3 فیصد تک جا پہنچی۔ جس کے باعث شرح سود کی سطح برقرار رکھی جاسکتی ہے۔

تجزیہ کار فیضان احمد نے کہا کہ کرونا کیسسز میں اضافہ اور لاک ڈاون کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ کیا جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ماہرِمعاشیات مزمل اسلم نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس یعنی 0 اعشاریہ 25 فیصد اضافہ کئے جانے کا امکان ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ معاشی ترقی کی رفتار 3 اعشاریہ 94 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، معاشی ترقی میں توقع سے زیادہ اضافے کےباعث شرح سود بڑھائے جانے کا امکان ہے۔ اسکے علاوہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال مارچ میں مہنگائی کی شرح 9 اعشاریہ 05فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اپریل میں بڑھ کر11 اعشاریہ 1 فیصد ہوگئی، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بھی شرح سود کو بڑھائے جانے کا امکان ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی فروخت کا نیا ریکارڈ

تجزیہ کار عدنان سمیع شیخ کے مطابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین کی اول ترجیح لاک ڈاون کے باعث معشیت میں پیدا ہونے والے بحران کو کم کرنا ہے اور اگلے سال تک معاشی ترقی کی رفتار 6 فیصد  تک کیے جانے  کا امکان ہے، معشیت کو مزید ترقئی دینے کے لیے شرح سود 25 بیسس پوائنٹس یعنی 0 اعشاریہ 25 فیصد کم کیے جانے کا امکانات زیادہ ہیں۔

تفیصلات کے مطابق رواں مالی سال 6 مرتبہ مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔ آئندہ 6 ماہ کے دوران 4 مرتبہ مانیٹری پالیسی جاری کی جائے گی۔ اگلی مانیٹری پالیسی کا اعلان رواں مالی سال 28 مئی کو ہوگا، اس کے بعد بالترتیب 27 جولائی، 20 ستمبر اور آخری مانیٹری پالیسی کا اعلان 26 نومبر کو کیاجائے گا۔

واضح رہے کہ آخری بار شرح سود گزشتہ سال مارچ میں 13 اعشاریہ 25 فیصد کی بلند سطح پر تھی۔ کرونا کی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے مارچ میں 12 اعشاریہ 50 فیصد،  اپریل میں 3 اعشاریہ 50 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کردی گئی تھی۔ بعد ازاں گزشتہ سال جون میں کرونا کیسسز کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود کو مزید کم کرکے 7 فیصد تک کردیا گیا تھا۔ اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے پچھلی 4 ماینٹری پالیسیوں میں معشیت کو کرونا سے پیدا ہونے والے بحران سے نکالنے کے لیے شرح سود میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیاہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

وزیراعظم سندھ میں مداخلت نہیں کرناچاہتے، شیخ رشید

وزیراعظم سندھ میں مداخلت نہیں کرناچاہتے، شیخ رشید

کوئٹہ گلیڈی ایٹر کےکپتان، کھلاڑی ویزے سےمحروم

کوئٹہ گلیڈی ایٹر کےکپتان، کھلاڑی ویزے سےمحروم