in

بٹ کوائن کی قیمت تین ماہ کی کم ترین سطح پر

بٹ کوائن کی قیمت تین ماہ کی کم ترین سطح پر

چین کی حکومت کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں کیخلاف کریک ڈاؤن میں تیزی کی خبروں کے بعد بدھ کو بٹ کوائن ایک بار پھر کریش کرگیا، معروف ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت تین ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی۔

چین کی حکومت کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں کیخلاف کریک ڈاؤن میں تیزی کی خبروں کے بعد بدھ کو بٹ کوائن ایک بار پھر کریش کرگیا، معروف ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت تین ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی۔

دنیا کی مقبول ترین کرپٹو کرنسی 38 ہزار ڈالر کی سطح سے نیچے آگئی، ڈیجیٹل کرنسی اس سطح پر فروری کے پہلے ہفتے میں دیکھی گئی تھی، اپریل میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر جانے کے بعد سے اب تک 28 ہزار ڈالر کمی واقع ہوچکی ہے۔ ایتھریئم سمیت دیگر کرپٹو کرنسیوں کے نرخ میں تیزی سے کمی ہوئی ہے، جس کی قدر 24 گھنٹوں میں 30 فیصد گر گئی۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیپلز بینک آف چائنا کے وی چیٹ اکاؤنٹ پر بینکنگ اور انٹرنیٹ انڈسٹری ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی اور ادائیگیوں سے متعلق اداروں کو کرپٹو کرنسیوں کو بطور ادائیگی قبول نہیں کرنا چاہئے، اور نہ ہی ان سے متعلق خدمات یا مصنوعات پیش کرنی چاہئیں۔ اس گروپ نے کہا کہ ورچوئل کرنسی اصلی کرنسی نہیں ہے اور نہ ہی اسے مارکیٹ میں کرنسی کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مشترکہ بیان میں قیمتوں میں حالیہ اضافے کو بھی خیالی خریداری سے منسوب کیا گیا ہے۔

رواں ماہ کی ابتداء میں چینی حکومت نے بھی ملک میں بٹ کوائن کی مائننگ کیخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا، جہاں اس کرپٹو کرنسی کی مجموعی مائننگ کا حجم 70 فیصد ہے۔

حال ہی میں برطانوی حکام، یو ایس ٹریژری اور یورپین سینٹرل بینک بھی عوام کو ورچوئل کرنسیوں سے جڑے خطرات پر تنبیہہ کرچکے ہیں۔ جس میں ورچوئل کرنسیوں کا منی لانڈرنگ میں استعمال، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔

انہوں نے سرمایہ کاروں کو متنبہ کیا کیونکہ وہ سوشل میڈیا ہائپ اور افواہوں کی بنیاد پر کریش اور پمپ اپ لگاسکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ساتوشی ناکاموتو کی جانب سے 2009ء میں اجراء کے بعد بٹ سب سے پہلی کرپٹو کرنسی تھی، جس کے بعد سے اب تک فنانشل سسٹم کے مستقبل کو بدلنے کے وعدے کے ساتھ 10 ہزار سے زائد مختلف ورچوئل کرنسیاں جاری کی جاچکی ہیں۔

ڈیجیٹل گولڈ اور کرنسی آف دی فیوچر کہلائی جانیوالے یہ ڈیجیٹل اثاثوں نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران سرمایہ کاروں کو پاگل کردینے والا منافع دیا ہے۔ البتہ ماہرین اس کے مستقبل سے متعلق تقسیم ہیں، کچھ کا کہنا ہے کہ اس کی قدر دس لاکھ ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے (بٹ کوائن کی صورت میں)، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ صفر ہوسکتی ہے کیونکہ کسی بھی حکومت یا سینٹرل بینک کی جانب سے اس کی ضمانت نہیں ہے کہ سرمایہ کار ان قیمتوں کی کے مطابق اس کی قدر حاصل کرسکیں گے۔

خیالی خریداری، سوشل میڈیا ہاپ اور کچھ بڑی کمپنیوں ٹیسلا، پے پال اور ماسٹر کارڈز کی جانب سے حمایت میں آنیوالے بیانات کے باعث دسمبر 2020ء سے قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ ہفتے ٹیسلا کے سی ای او، جن کے ٹویٹ نے بٹ کوائن اور دیگر کرنسیوں کی قیمتوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، نے نمبر ون کرپٹو کرنسی کی حمایت واپس لے لی۔ ان کا کہنا تھا کہ بٹ کوائن مائننگ میں بہت زیادہ توانائی صرف ہوتی ہے جو ماحول کیلئے بالکل ٹھیک نہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پی ایس ایل6: باقی میچوں سے متعلق فیصلہ کل ہوگا

پی ایس ایل6: باقی میچوں سے متعلق فیصلہ کل ہوگا

دنیا میں پرندوں کی تعداد کتنی ہے؟

دنیا میں پرندوں کی تعداد کتنی ہے؟